مِرے دن کی طرح روشن مِری ہر رات ہوتی ہے
دعا ماں کی ہر اک موسم میں میرے ساتھ ہوتی ہے
عجب دستور ہے اک یہ بھی اظہارِ محبت کا
زباں خاموش رہتی ہے نظر سے بات ہوتی ہے
تلاش رزق میں جب بھی کبھی گھر سے نکلتا ہوں
مِرے ہمراہ پیہم گردش حالات ہوتی ہے
بھلا الزام کوئی دشمنی پر کیا رکھا جائے
کہ اب تو دوستی ہی باعث صدمات ہوتی ہے
رہوں میں کوئی عالم کوئی حالت میں مگر ساحل
مِرے پیشِ نظر تو بس خدا کی ذات ہوتی ہے
ساحل قادری
No comments:
Post a Comment