Showing posts with label طارق اقبال. Show all posts
Showing posts with label طارق اقبال. Show all posts

Friday, 9 September 2022

خدا کے بعد برتر آپ ہی کی ذات ہے آقا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


خدا کے بعد برتر آپﷺ ہی کی ذات ہے آقاؐ

میں کیا لِکھوں، نہ لِکھنے کی، میری اوقات ہے آقاؐ

درود آپﷺ پر بھیجوں، تو سب، بِگڑا سنورتا ہے

آپﷺ ہی کی نسبت سے، بنے ہر بات ہے آقاؐ

تخلیقِ جہاں جو ہے، یہ سب ہے، آپؐ کی خاطر

آپﷺ کے نام کا صدقہ، یہ کائنات ہے آقاؐ

Saturday, 23 July 2022

اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

 اب تم بھی پلٹنے کا سوچو


ہیں سردیاں پلٹنے کو

اب تم بھی پلٹنے کا سوچو

تنہا گزرے کتنے موسم

تم لوٹے نہ میرے ہمدم

جن پر ہم سنگ سنگ چلتے تھے

Tuesday, 21 September 2021

محبت میں دغا دوں گا کبھی تم سوچنا مت یہ

 محبت میں دغا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ

تمہیں اک دن بُھلا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ

میری جتنی محبت ہے، سبھی تیری امانت ہے

میں چاہت یہ گھٹا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ

محبت سے تمھیں مِل کے، کسی مورت کو میں دِل کے

مندر میں سجا دوں گا، کبھی تم سوچنا مت یہ

Monday, 20 September 2021

محرم میرے بعد تمہارے

 محرم میرے بعد تمہارے

مت پوچھو دن کیسے گزارے

بھاری آنکھیں، اٹا ہوا دل

کسے بتاؤں راز میں سارے

بے رنگ صبحیں، بوجھل شامیں

کوئی بھلا کیوں خود کو سنوارے

بھلے کوئی کتنی بھی اچھی بنائے

 بھلے کوئی کتنی بھی اچھی بنائے

مگر دل کو بھائے، تمھاری ہی چائے

تیرے ہاتھوں کی خوشبو، وہ چاہت کا جادو

ہر اک گھونٹ دل میں محبت جگائے

یہ ٹھنڈی ہوائیں، بے تابی بڑھائیں

ستم یہ کہ اس پہ تیری یاد آئے

Sunday, 19 September 2021

وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

 وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

کہی تیری سبھی باتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

وہ بادل کا گرج جانا، تیرا مجھ سے لپٹ جانا

محبت کی کراماتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

پہروں بیٹھ کر اکثر، بناتے چاند پر تھے گھر

جو سنگ جاگیں سبھی راتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

Tuesday, 6 July 2021

سنا ہے اس کی چوکھٹ پر جلے چراغ ملتے ہیں

 سنا ہے اس کی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

ابھی بھی منتظر ہے وہ، یہی سراغ ملتے ہیں

محبت کا اور رنجش کا، جہاں آغاز ثابت ہے

وہیں پر بات کرتے ہیں، چلو اس باغ ملتے ہیں

لگ کے دامن پہ دِکھلائیں، حقیقی عکس رشتوں کا

بہت مانوس ہاتھوں سے، ہمیں جو داغ ملتے ہیں

Monday, 5 July 2021

لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

 لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی

بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی

پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے

مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی

چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں

نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی