Sunday, 19 September 2021

وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

 وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

کہی تیری سبھی باتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

وہ بادل کا گرج جانا، تیرا مجھ سے لپٹ جانا

محبت کی کراماتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

پہروں بیٹھ کر اکثر، بناتے چاند پر تھے گھر

جو سنگ جاگیں سبھی راتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

تمہیں خوش دیکھنے کو بس، میں خود ہی ہار جاتا تھا

تیری ہر جیت، میری ماتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

میں نے اک بار پوچھا تھا؛ اگر میں نہ ملوں تم کو؟

تیری آنکھوں کی برساتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو

کبھی مانگتے تھے ہم، طاق راتوں میں جو حاوی

وہ ہر منت، مناجاتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھ کو


طارق اقبال حاوی

No comments:

Post a Comment