اک گزارش ہے بس اتنا کیجیۓ
جب کبھی فرصت ہو آیا کیجیۓ
لوگ اس کا بھی غلط مطلب نہ لیں
اجنبیت سے نہ دیکھا کیجیۓ
خود کو اپنی آنکھ سے دیکھا تو ہے
اب مِری آنکھوں سے دیکھا کیجیۓ
التجا تھی، ایک سادہ التجا
اپنی تنہائی میں سوچا کیجیۓ
یاد تو ہو گی وہ اپنی بے رخی
اب مِری تصویر دیکھا کیجیۓ
مرہمِ زخمِ سخن بن جائیے
کچھ مِرے فن کا مداوا کیجیۓ
عشق کو کب یاد تھی رسم وفا
حسن کا کس منہ سے شکوہ کیجیۓ
ظلمت غم جب زیادہ ہو امام
شمع فکر و فن جلایا کیجیۓ
مظہر امام
No comments:
Post a Comment