Sunday, 19 September 2021

اک گزارش ہے بس اتنا کیجیے

 اک گزارش ہے بس اتنا کیجیۓ

جب کبھی فرصت ہو آیا کیجیۓ

لوگ اس کا بھی غلط مطلب نہ لیں

اجنبیت سے نہ دیکھا کیجیۓ

خود کو اپنی آنکھ سے دیکھا تو ہے

اب مِری آنکھوں سے دیکھا کیجیۓ

التجا تھی، ایک سادہ التجا

اپنی تنہائی میں سوچا کیجیۓ

یاد تو ہو گی وہ اپنی بے رخی

اب مِری تصویر دیکھا کیجیۓ

مرہمِ زخمِ سخن بن جائیے

کچھ مِرے فن کا مداوا کیجیۓ

عشق کو کب یاد تھی رسم وفا

حسن کا کس منہ سے شکوہ کیجیۓ

ظلمت غم جب زیادہ ہو امام

شمع فکر و فن جلایا کیجیۓ


مظہر امام

No comments:

Post a Comment