وطن سے دُور اے پیارے پرندے
پریشاں حال دُکھیارے پرندے
ضرورت کے قفس میں قید ہیں سب
خوشی سے درد کے مارے پرندے
تلاشِ رزق میں نکلے گھروں سے
سحر دم آنکھ کے تارے پرندے
اُڑے اپنے دُکھوں کا بوجھ ڈھونے
مثالِ من تھکے ہارے پرندے
ہرے صحرائے چشم ان کے رہیں گے
بہت روئے ہیں بے چارے پرندے
فقط ہم ہی نہیں طارق یہاں پر
سفر میں ہیں بہت سارے پرندے
اقبال طارق
No comments:
Post a Comment