Showing posts with label محمد خالد. Show all posts
Showing posts with label محمد خالد. Show all posts

Friday, 11 March 2022

اک ربط تھا بہ رنگ دگر بھی نہیں رہا

 اک ربط تھا بہ رنگِ دگر بھی نہیں رہا

دیوار کیا گری کوئی در بھی نہیں رہا

اب تک ہے تُو بھی اور تِری ہیبت بھی بے مثال

دل وہ نہیں ہے دل میں وہ ڈر بھی نہیں رہا

کیا ہو اگر لبوں پہ ابھی تک ہے کوئی پیاس

صحرا میں جب سراب نظر بھی نہیں رہا

Monday, 27 December 2021

پھر کوئی خواب ترے رنگوں سے جدا نہیں دیکھا

 پھر کوئی خواب تِرے رنگوں سے جدا نہیں دیکھا

کیا کچھ دیکھ لیا تھا ہم نے کیا نہیں دیکھا

اولِ عشق کی ساعت جا کر پھر نہیں آئی

پھر کوئی موسم پہلے موسم سا نہیں دیکھا

سب نے دیکھا تھا تِرا ہم کو رخصت کرنا

ہم نے جو منظر دیکھنے والا تھا نہیں دیکھا

Friday, 10 December 2021

چلتے چلتے یوں ہی قدم جب ڈولتا ہے

 چلتے چلتے یوں ہی قدم جب ڈولتا ہے

اک نیا رستہ اپنی بانہیں کھولتا ہے

تن جاتی ہے موت کی چادر دنیا پر

پھر کوئی ہاتھ جہاں کی نبض ٹٹولتا ہے

روح کے اندر پھر کسی بے کل لمحے میں

کوئی پرندہ 🕊 اڑنے کو پر تولتا ہے

Thursday, 9 December 2021

ہم شعر سناتے ہیں مفہوم تمہارا ہے

 ہم شعر سناتے ہیں مفہوم تمہارا ہے

گم کردۂ منزل ہیں معلوم تمہارا ہے

اوراق پریشاں ہیں نقاش کسے جانیں

بس حرف ہمارے ہیں مرقوم تمہارا ہے

یہ نغمۂ ہستی بھی منسوب تمہیں سے ہے

آہنگ تمہارا ہے،۔ منظوم تمہارا ہے

Saturday, 17 July 2021

اجڑے ہوئے ہیں شہر کے دیوار و در نہ جا

 اجڑے ہوئے ہیں شہر کے دیوارودر نہ جا

دل کی روایتیں ہیں بڑی معتبر، نہ جا

پہنا نہ خواہشوں کو لباسِ برہنگی

شب کی مسافتوں میں برنگِ سحر نہ جا

کچھ دیر اور گرمئ بازار دیکھ لے

لے کر ہجومِ حسرتِ نظارہ گھر نہ جا