اک ربط تھا بہ رنگِ دگر بھی نہیں رہا
دیوار کیا گری کوئی در بھی نہیں رہا
اب تک ہے تُو بھی اور تِری ہیبت بھی بے مثال
دل وہ نہیں ہے دل میں وہ ڈر بھی نہیں رہا
کیا ہو اگر لبوں پہ ابھی تک ہے کوئی پیاس
صحرا میں جب سراب نظر بھی نہیں رہا
اک ربط تھا بہ رنگِ دگر بھی نہیں رہا
دیوار کیا گری کوئی در بھی نہیں رہا
اب تک ہے تُو بھی اور تِری ہیبت بھی بے مثال
دل وہ نہیں ہے دل میں وہ ڈر بھی نہیں رہا
کیا ہو اگر لبوں پہ ابھی تک ہے کوئی پیاس
صحرا میں جب سراب نظر بھی نہیں رہا
پھر کوئی خواب تِرے رنگوں سے جدا نہیں دیکھا
کیا کچھ دیکھ لیا تھا ہم نے کیا نہیں دیکھا
اولِ عشق کی ساعت جا کر پھر نہیں آئی
پھر کوئی موسم پہلے موسم سا نہیں دیکھا
سب نے دیکھا تھا تِرا ہم کو رخصت کرنا
ہم نے جو منظر دیکھنے والا تھا نہیں دیکھا
چلتے چلتے یوں ہی قدم جب ڈولتا ہے
اک نیا رستہ اپنی بانہیں کھولتا ہے
تن جاتی ہے موت کی چادر دنیا پر
پھر کوئی ہاتھ جہاں کی نبض ٹٹولتا ہے
روح کے اندر پھر کسی بے کل لمحے میں
کوئی پرندہ 🕊 اڑنے کو پر تولتا ہے
ہم شعر سناتے ہیں مفہوم تمہارا ہے
گم کردۂ منزل ہیں معلوم تمہارا ہے
اوراق پریشاں ہیں نقاش کسے جانیں
بس حرف ہمارے ہیں مرقوم تمہارا ہے
یہ نغمۂ ہستی بھی منسوب تمہیں سے ہے
آہنگ تمہارا ہے،۔ منظوم تمہارا ہے
اجڑے ہوئے ہیں شہر کے دیوارودر نہ جا
دل کی روایتیں ہیں بڑی معتبر، نہ جا
پہنا نہ خواہشوں کو لباسِ برہنگی
شب کی مسافتوں میں برنگِ سحر نہ جا
کچھ دیر اور گرمئ بازار دیکھ لے
لے کر ہجومِ حسرتِ نظارہ گھر نہ جا