Friday, 10 December 2021

چلتے چلتے یوں ہی قدم جب ڈولتا ہے

 چلتے چلتے یوں ہی قدم جب ڈولتا ہے

اک نیا رستہ اپنی بانہیں کھولتا ہے

تن جاتی ہے موت کی چادر دنیا پر

پھر کوئی ہاتھ جہاں کی نبض ٹٹولتا ہے

روح کے اندر پھر کسی بے کل لمحے میں

کوئی پرندہ 🕊 اڑنے کو پر تولتا ہے

پہلے سب آوازیں اک شور میں ڈھلتی ہیں

پھر کوئی نغمہ کانوں میں رس گھولتا ہے

یہ اظہار بھی جبر کی صورت ہے کوئی

ہم جو نہ بولیں، لہو رگوں میں بولتا ہے


محمد خالد

No comments:

Post a Comment