Friday, 10 December 2021

تاریخ بتاتی ہے یہی شام و سحر کی

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 تاریخ بتاتی ہے یہی شام و سحر کی

تکلیف محرم میں بڑھے سوزِ جگر کی

طاغوت کے آگے نہ جھکی گردنِ حق وہ

یہ شانِ عُلا دیکھی علی مولا کے گھر کی

محرومِ انا تھا سبھی طاغوت کا لشکر

زینب یہی کہتی تھی ردا چھن گئی سر کی

جس روز اتارے گئے اس دھرتی پہ آدم

اس دن سے قیامت ہی تھی قسمت میں بشر کی

کربل میں حکومت سے نہتے ہی لڑے وہ

ایسی تھی شہادت مِرے زہراؑ کے پسر کی

خط بھیج کے بلوایا انہیں ہٹ گئے پیچھے

غیرت بھی کہاں مر گئی اف اہل نظر کی

ہر ماہ میں افضل ہے نیا ماہ، محرم

انجم یہ کہانی ہے بہتر کے سفر کی


فریدہ انجم

No comments:

Post a Comment