یہاں اب مسئلے حل ہو نہیں سکتے شکایت سے
امیدِ خیر رکھنا ہے حماقت اس حکومت سے
سبھی کو توڑنی ہوں گی عداوت کی یہ دیواریں
تمہیں جُڑنا پڑے گا ایک ہی ملی جماعت سے
وجود اپنا بچانا ہے تو اک پرچم تلے آؤ
وگرنہ اور دیکھے جاؤ گے تم اب حقارت سے
یہاں اب مسئلے حل ہو نہیں سکتے شکایت سے
امیدِ خیر رکھنا ہے حماقت اس حکومت سے
سبھی کو توڑنی ہوں گی عداوت کی یہ دیواریں
تمہیں جُڑنا پڑے گا ایک ہی ملی جماعت سے
وجود اپنا بچانا ہے تو اک پرچم تلے آؤ
وگرنہ اور دیکھے جاؤ گے تم اب حقارت سے
تخلیق داستاں میں کروں اک غریب کی
روداد دل خراش ہے اس بد نصیب کی
رہتے تھے ایک گھر میں فقط پانچ ہی نفر
غربت کی مار ایسی کے ہوتی نہ تھی گزر
بیمار باپ تھا تو وہ کرتا بھی کام کیا
اس کے برے نصیب تھے اس میں کلام کیا
یہ مت سمجھ کے صاحبِ کردار نہیں ہوں
جیسا بھی ہوں میں رونقِ بازار نہیں ہوں
بھاتی ہیں دل کو گو یہ تِری مسکراہٹیں
لیکن میں اس ادا کا طلبگار نہیں ہوں
جو بات تجھ میں ہے وہ کسی اور میں کہاں
لیکن میں تِرے پیار کا حقدار نہیں ہوں