Showing posts with label ارشاد دہلوی. Show all posts
Showing posts with label ارشاد دہلوی. Show all posts

Sunday, 12 September 2021

یہاں اب مسئلے حل ہو نہیں سکتے شکایت سے

 یہاں اب مسئلے حل ہو نہیں سکتے شکایت سے

امیدِ خیر رکھنا ہے حماقت اس حکومت سے

سبھی کو توڑنی ہوں گی عداوت کی یہ دیواریں

تمہیں جُڑنا پڑے گا ایک ہی ملی جماعت سے

وجود اپنا بچانا ہے تو اک پرچم تلے آؤ

وگرنہ اور دیکھے جاؤ گے تم اب حقارت سے

Tuesday, 10 August 2021

تخلیق داستاں میں کروں اک غریب کی

 تخلیق داستاں میں کروں اک غریب کی

روداد دل خراش ہے اس بد نصیب کی

رہتے تھے ایک گھر میں فقط پانچ ہی نفر

غربت کی مار ایسی کے ہوتی نہ تھی گزر

بیمار باپ تھا تو وہ کرتا بھی کام کیا

اس کے برے نصیب تھے اس میں کلام کیا

Monday, 28 November 2016

یہ مت سمجھ کے صاحب کردار نہیں ہوں

 یہ مت سمجھ کے صاحبِ کردار نہیں ہوں

جیسا بھی ہوں میں رونقِ بازار نہیں ہوں

بھاتی ہیں دل کو گو یہ تِری مسکراہٹیں

لیکن میں اس ادا کا طلبگار نہیں ہوں

جو بات تجھ میں ہے وہ کسی اور میں کہاں

لیکن میں تِرے پیار کا حقدار نہیں ہوں

پچھتا رہے ہیں تم پر دل کو نثار کر کے

پچھتا رہے ہیں تم پر دل کو نثار کر کے
کیسے بدل گئے ہو قول و قرار کر کے
‘تم نے کہا تھا ’جینا تم بِن محال ہے اب
برباد ہو گئے ہم یہ اعتبار کر کے
کھائے ہیں زخم اتنے چھلنی جگر ہوا ہے
فرصت ملے تو آؤ دیکھو شمار کر کے

وقت نازک ہے یہ پیغام سنایا جائے

وقت نازک ہے یہ پیغام سنایا جائے
ہر قدم سوچ سمجھ کر ہی اٹھایا جائے
منتشر رہنے میں اندیشۂ بربادی ہے
متحد رہنے کا پیمان کرایا جائے
فرقہ بندی نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہم کو
مسلکی بغض کو اب دل سے مٹایا جائے

دارا گئے جہاں سے سکندر چلے گئے

دارا گئے جہاں سے، سکندر چلے گئے
چنگیز جیسے کتنے تونگر چلے گئے
ہٹلر بھی ایک قوم نہیں ختم کر سکا
اس جیسے بے شمار ستمگر چلے گئے
ان کی بساط کیا ہے جو چلتی ہیں آندھیاں
اٹھ کر یہاں سے کتنے بونڈر چلے گئے

Tuesday, 22 November 2016

شوق الفت کا زمانہ تمہیں اب یاد نہیں

شوقِ الفت کا زمانہ تمہیں اب یاد نہیں
بام پر روز کا آنا تمہیں اب یاد نہیں
وہ تبسم وہ ادائیں وہ اشارے مجھ کو
تیر نظروں کے چلانا تمہیں اب یاد نہیں
دیکھنا شوق میں اور خود ہی حیا کے باعث
اپنی نظروں کو جھکانا تمہیں اب یاد نہیں

جتنا تمہیں ہے پیارا اتنا ہمیں یہ پیارا

جتنا تمہیں ہے پیارا اتنا ہمیں یہ پیارا
جو عقل سے ہیں کورے ان کو نہیں گوارا
ہم نے بھی سرحدوں پہ لڑ لڑ کے جان دی ہے
یہ سر پھرے نہ سمجھیں ان کا ہے بس اجارہ
رہنا ہے ساتھ ہی جب پھر مل کے رہنا سیکھو
تم بانٹو غم ہمارے، ہم بانٹیں دکھ تمہارا

جو حاکم ہیں وہی اشرار دیکھوں

جو حاکم ہیں وہی اشرار دیکھوں
ستم ہوتے سرِ بازار دیکھوں
امیروں کے اثاثوں پر اثاثے 
غریبوں کو بہت لاچار دیکھوں
کروں امید منزل کی میں کیسے
بھٹکتا قافلہ سالار دیکھوں

Wednesday, 9 November 2016

جب کبھی تجھ کو خیالات میں لے آتا ہوں

جب کبھی تجھ کو خیالات میں لے آتا ہوں
جانے کیوں خود ہی پریشان سا ہو جاتا ہوں
کیا گزرتی ہے مِرے دل پہ، بتاؤں کس کو
جیسے مجرم ہوں، یہی سوچ کہ گھبراتا ہوں
دل تو کہتا ہے کہ آنکھوں میں سما جاؤں تِری
پر، کروں کیا نہ کروں، کچھ نہ سمجھ پاتا ہوں

کس طرف جائیں یہاں سے راستہ کوئی نہیں

کس طرف جائیں یہاں سے راستہ کوئی نہیں
بے حِسوں کی بھیڑ ہے اور ہمنوا کوئی نہیں
اپنی اپنی خامیاں تسلیم سب کر لیں اگر
مسلکوں کا، درمیاں پھر مسئلہ کوئی نہیں
بند سارے پیشوا ہیں اپنے اپنے خول میں
کس طرح پھر رابطہ ہو، سلسلہ کوئی نہیں

Friday, 7 October 2016

اٹھو کہ حشر نہ کر دے یہاں بپا کوئی

اٹھو کہ حشر نہ کر دے یہاں بپا کوئی
مٹا رہا ہے محبت کا سلسلہ کوئی
عجب نہیں کوئی چنگاریوں کو سلگا دے 
فتن کا دور ہے اس میں نہیں پتا کوئی 
یوں اٹھ رہا ہے تعفن سیاسی لاشوں سے 
کہ جیسے چار سُو پھیلے بری وبا کوئی

اپنی تاریخ کے افکار کہاں سے لاؤں

اپنی تاریخ کے افکار کہاں سے لاؤں
بھول بیٹھا ہوں وہ اطوار کہاں سے لاؤں
اب تو ماضی ہے فقط قصے سنانے کیلئے
ہائے افسوس وہ کردار کہاں سے لاؤں 
دربدر پھرتا ہوں انصاف کی خاطر میں یہاں 
عہدِ فاروق ؓ سا دربار کہاں سے لاؤں