اپنی تاریخ کے افکار کہاں سے لاؤں
بھول بیٹھا ہوں وہ اطوار کہاں سے لاؤں
اب تو ماضی ہے فقط قصے سنانے کیلئے
ہائے افسوس وہ کردار کہاں سے لاؤں
دربدر پھرتا ہوں انصاف کی خاطر میں یہاں
صِدق ایسا کہ صداقت بھی جہاں ناز کرے
وہ ابو بکر ؓ سا حقدار کہاں سے لاؤں
فخر کرتی تھی سخاوت بھی سخا پر ان کی
میں وہ عثمان ؓ سا ایثار کہاں سے لاؤں
جس نے دروازۂ خبر کو اکھاڑا پل میں
وہ علی ؓ حیدرِ کرّار کہاں سے لاؤں
جس نے حق کے لئے کربل میں لٹایا گھر کو
اب شہیدوں کا وہ سردار ؓ کہاں سے لاؤں
مجتمع ہو کہ چلے ساتھ میں امت جس کے
میں وہ اب قافلہ سالار کہاں سے لاؤں
منتظر ہوں میں ابھی معجزہ ہو جائے کوئی
دشمنوں کے لیے یلغار کہاں سے لاؤں
مجھ کو توفیق عطا کر مِرے مولا ایسی
تھے جو پاکیزہ وہ اطوار کہاں سے لاؤں
تیری خلقت بڑی مشکل میں گھری ہے یا رب
میں نہیں جانتا غمخوار کہاں سے لاؤں
تُو ہے قادر تُو ہی وہ دور بھی لا سکتا ہے
میں تو ارشادُ، ہوں لاچار کہاں سے لاؤں
ارشاد دہلوی
No comments:
Post a Comment