Friday, 7 October 2016

اپنی تاریخ کے افکار کہاں سے لاؤں

اپنی تاریخ کے افکار کہاں سے لاؤں
بھول بیٹھا ہوں وہ اطوار کہاں سے لاؤں
اب تو ماضی ہے فقط قصے سنانے کیلئے
ہائے افسوس وہ کردار کہاں سے لاؤں 
دربدر پھرتا ہوں انصاف کی خاطر میں یہاں 
عہدِ فاروق ؓ سا دربار کہاں سے لاؤں
صِدق ایسا کہ صداقت بھی جہاں ناز کرے
وہ ابو بکر ؓ سا حقدار کہاں سے لاؤں
فخر کرتی تھی سخاوت بھی سخا پر ان کی
میں وہ عثمان ؓ سا ایثار کہاں سے لاؤں
جس نے دروازۂ خبر کو اکھاڑا پل میں
وہ علی ؓ حیدرِ کرّار کہاں سے لاؤں
جس نے حق کے لئے کربل میں لٹایا گھر کو
اب شہیدوں کا وہ سردار ؓ کہاں سے لاؤں
مجتمع ہو کہ چلے ساتھ میں امت جس کے
میں وہ اب قافلہ سالار کہاں سے لاؤں
منتظر ہوں میں ابھی معجزہ ہو جائے کوئی
دشمنوں کے لیے یلغار کہاں سے لاؤں
مجھ کو توفیق عطا کر مِرے مولا ایسی
تھے جو پاکیزہ وہ اطوار کہاں سے لاؤں
تیری خلقت بڑی مشکل میں گھری ہے یا رب
میں نہیں جانتا غمخوار کہاں سے لاؤں
تُو ہے قادر تُو ہی وہ دور بھی لا سکتا ہے
میں تو ارشادُ، ہوں لاچار کہاں سے لاؤں

ارشاد دہلوی

No comments:

Post a Comment