خیال کے قریب ہے نظر سے ہے چھپا ہوا
یہ کون ہے نفس نفس میں ہمنوا بنا ہوا
وہ رابطے میں ہے مِرے میں اسکی دسترس میں ہوں
وہ میرا آئینہ ہوا، میں اس کا آئینہ ہوا
نئے چمن تلاش کر، نئی بہار ڈھونڈ لے
وہ ترکِ رسم و راہ کر جو خودبخود چلا گیا
اِک اور سانپ کم ہُوا،۔۔ چلو یہ فائدہ ہوا
دکھائی دی قدم قدم یذیدیت یذیدیت
نظارہ شہر شہر کا بمثلِ کربلا ہوا
یہ معجزا ہنر کا ہے، یہ حسنِ سنگ تراش ہے
جو سنگ اس نے چھو لیا وہ سنگ دیوتا ہوا
ہزار کر کے کوششیں ہتھیلیاں کھرچ کے بھی
نہ مٹ سکا کسی طرح نصیب کا لکھا ہوا
جو ہولی کھیلتا رہا ہے رہرہوں کے خون سے
عجیب مسئلہ ہے یہ،۔۔ وہ کیسے رہنما ہوا
جلی ہیں بستیاں کئی،۔ ہوا ہے قتلِ عام بھی
مگر خبر چھپی ہے یہ،۔ کہ ایک حادثہ ہوا
مِرے لیے تو یہ بھی کچھ نہ کم خوشی کی بات ہے
مِرا زیاں ہوا تو کیا،۔۔۔ کسی کا تو بھلا ہوا
خمارؔ بعدِ مرگ بھی جو تم کو زندہ رکھ سکے
تمام عمر ایک بھی نہ شعر شعر سا ہوا
خمار دہلوی
No comments:
Post a Comment