Showing posts with label ظفر انصاری. Show all posts
Showing posts with label ظفر انصاری. Show all posts

Wednesday, 17 April 2024

غم اتنے اپنے دامن دل سے لپٹ گئے

 غم اتنے اپنے دامن دل سے لِپٹ گئے

تجھ سے بچھڑ کے ہم کئی قسطوں میں بٹ گئے

کیوں یہ دیار میرے لیے تنگ سا لگا

کیا بات ہے کہ دامنِ صحرا سِمٹ گئے

اس سے کہیں بھی نام تمہارا نہیں مِلا

ہم ہر ورق کتابِ وفا کے پلٹ گئے

Sunday, 12 November 2023

تو عطا میرے لیے غیب سے ساماں کر دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تُو عطا میرے لیے غیب سے ساماں کر دے

میرے معبود! مِری زندگی آساں کر دے

شاخ در شاخ وفا کے گُل صد رنگ کِھلا

میرے اس دشتِ تمنا کو گُلستاں کر دے

ظُلمتِ یاس میں دم گُھٹنے لگا ہے میرا

مہر اُمید کے جلووں کو نمایاں کر دے

Thursday, 20 April 2023

کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں

 کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں

تجھی کو یاد کیا دل نے سرد آہوں میں

اسی امید پہ دنیا کو ہم نے چھوڑ دیا

سکون دل کو ملے گا تِری پناہوں میں

بہت حسین تھا بچپن کا وہ زمانہ بھی

کوئی حسین کلی تھی مِری نگاہوں میں

Saturday, 29 October 2022

حالت بیمار غم پر جس کو حیرانی نہیں

حالتِ بیمارِ غم پر جس کو حیرانی نہیں

اصل میں اس آدمی میں خُوئے انسانی نہیں

ایسی بے دردی سے اس کو مت بہاؤ خاک پر

خون انساں، خون انساں ہے کوئی پانی نہیں

جس کی خوشبو سے معطر رات بھر رہتا تھا میں

میرے گھر کے پاس اب وہ رات کی رانی نہیں

Monday, 20 June 2022

مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا

مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا

تجھ کو منظور اگر ہو تو بُھلا ہی دینا

اے غمِ ہجر وہ تہمت جو لگائے مجھ پر

میری بے لوث محبت کی گواہی دینا

یہ الگ بات کہ ہو جاؤں محبت میں تباہ

تو نہ مجھ کو کبھی احساس تباہی دینا

Friday, 6 August 2021

سرہانے بے بسی روتی رہی ہے

 سرہانے بے بسی روتی رہی ہے

شبِ غم زندگی روتی رہی ہے

شبِ غم سانحہ کیا ہو گیا تھا

بہر سُو چاندنی روتی رہی ہے

مِری بے چارگی پر بزمِ انجم

کبھی ہنستی کبھی روتی رہی ہے