غم اتنے اپنے دامن دل سے لِپٹ گئے
تجھ سے بچھڑ کے ہم کئی قسطوں میں بٹ گئے
کیوں یہ دیار میرے لیے تنگ سا لگا
کیا بات ہے کہ دامنِ صحرا سِمٹ گئے
اس سے کہیں بھی نام تمہارا نہیں مِلا
ہم ہر ورق کتابِ وفا کے پلٹ گئے
غم اتنے اپنے دامن دل سے لِپٹ گئے
تجھ سے بچھڑ کے ہم کئی قسطوں میں بٹ گئے
کیوں یہ دیار میرے لیے تنگ سا لگا
کیا بات ہے کہ دامنِ صحرا سِمٹ گئے
اس سے کہیں بھی نام تمہارا نہیں مِلا
ہم ہر ورق کتابِ وفا کے پلٹ گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُو عطا میرے لیے غیب سے ساماں کر دے
میرے معبود! مِری زندگی آساں کر دے
شاخ در شاخ وفا کے گُل صد رنگ کِھلا
میرے اس دشتِ تمنا کو گُلستاں کر دے
ظُلمتِ یاس میں دم گُھٹنے لگا ہے میرا
مہر اُمید کے جلووں کو نمایاں کر دے
کبھی کسی کو جو دیکھا کسی کی بانہوں میں
تجھی کو یاد کیا دل نے سرد آہوں میں
اسی امید پہ دنیا کو ہم نے چھوڑ دیا
سکون دل کو ملے گا تِری پناہوں میں
بہت حسین تھا بچپن کا وہ زمانہ بھی
کوئی حسین کلی تھی مِری نگاہوں میں
حالتِ بیمارِ غم پر جس کو حیرانی نہیں
اصل میں اس آدمی میں خُوئے انسانی نہیں
ایسی بے دردی سے اس کو مت بہاؤ خاک پر
خون انساں، خون انساں ہے کوئی پانی نہیں
جس کی خوشبو سے معطر رات بھر رہتا تھا میں
میرے گھر کے پاس اب وہ رات کی رانی نہیں
مجھ کو تا عمر تڑپنے کی سزا ہی دینا
تجھ کو منظور اگر ہو تو بُھلا ہی دینا
اے غمِ ہجر وہ تہمت جو لگائے مجھ پر
میری بے لوث محبت کی گواہی دینا
یہ الگ بات کہ ہو جاؤں محبت میں تباہ
تو نہ مجھ کو کبھی احساس تباہی دینا
سرہانے بے بسی روتی رہی ہے
شبِ غم زندگی روتی رہی ہے
شبِ غم سانحہ کیا ہو گیا تھا
بہر سُو چاندنی روتی رہی ہے
مِری بے چارگی پر بزمِ انجم
کبھی ہنستی کبھی روتی رہی ہے