لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خُود کو کہیں سے ہم
کیا بے نیاز ہو گئے دُنیا و دیں سے ہم
محسوس ہو رہا ہے ہمیں تم سے مل کے آج
جیسے پہنچ گئے ہوں فلک پہ زمیں سے ہم
دُنیائے پُر فریب کے انداز دیکھ کر
دل یوں بُجھا کہ ہو گئے خلوت نشیں سے ہم
لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خُود کو کہیں سے ہم
کیا بے نیاز ہو گئے دُنیا و دیں سے ہم
محسوس ہو رہا ہے ہمیں تم سے مل کے آج
جیسے پہنچ گئے ہوں فلک پہ زمیں سے ہم
دُنیائے پُر فریب کے انداز دیکھ کر
دل یوں بُجھا کہ ہو گئے خلوت نشیں سے ہم
بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا
کس درجہ ہو گی کارگر اس کو دوا سے کیا
جھلسا کے رکھ دیا جسے باد سموم نے
غنچوں سے کیا غرض اسے باد صبا سے کیا
مذہب کا کیا کرے، اسے ذکر خدا سے کیا
رہنے کو جھونپڑا بھی نہ جس شخص کو ملے
نہ ہمدم ہے نہ کوئی ہم زباں ہے
دل ناشاد پھر بھی نغمہ خواں ہے
مِری قسمت میں ہی دی ہے خدا نے
مصیبت جو بھی زیر آسماں ہے
چمن کے طائرو اب خیر مانگو
بہت برہم مزاجِ باغباں ہے