Showing posts with label امیر چند بہار. Show all posts
Showing posts with label امیر چند بہار. Show all posts

Tuesday, 24 September 2024

لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خود کو کہیں سے ہم

 لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خُود کو کہیں سے ہم

کیا بے نیاز ہو گئے دُنیا و دیں سے ہم

محسوس ہو رہا ہے ہمیں تم سے مل کے آج

جیسے پہنچ گئے ہوں فلک پہ زمیں سے ہم

دُنیائے پُر فریب کے انداز دیکھ کر

دل یوں بُجھا کہ ہو گئے خلوت نشیں سے ہم

Saturday, 21 September 2024

بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا

 بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا

کس درجہ ہو گی کارگر اس کو دوا سے کیا

جھلسا کے رکھ دیا جسے باد سموم نے

غنچوں سے کیا غرض اسے باد صبا سے کیا

مذہب کا کیا کرے، اسے ذکر خدا سے کیا

رہنے کو جھونپڑا بھی نہ جس شخص کو ملے

Friday, 20 September 2024

نہ ہمدم ہے نہ کوئی ہمزباں ہے

 نہ ہمدم ہے نہ کوئی ہم زباں ہے

دل ناشاد پھر بھی نغمہ خواں ہے

مِری قسمت میں ہی دی ہے خدا نے

مصیبت جو بھی زیر آسماں ہے

چمن کے طائرو اب خیر مانگو

بہت برہم مزاجِ باغباں ہے