وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے
حسیں لوگوں سے دل بس بھر گیا ہے
یہ ظالم ظلم کرتے جا رہے ہیں
مِرے اندر کا انساں مر گیا ہے
مِرے کچھ خواب بھی وحشت بھرے تھے
نِگاہیں دیکھ کر وہ ڈر گیا ہے
مِرا یہ دُکھ مِرے ہر دُکھ پہ بھاری
مِرے ہاتھوں سے تیرا در گیا ہے
سُنا ہے دشت پاگل ہو رہا ہے
کہ اب کے قیس اپنے گھر گیا ہے
کیا معلوم مِلنے آ ہی جائے
بتانے حال نامہ بر گیا ہے
حورعین علی
No comments:
Post a Comment