Wednesday, 3 June 2026

وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے

 وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے

حسیں لوگوں سے دل بس بھر گیا ہے

یہ ظالم ظلم کرتے جا رہے ہیں

مِرے اندر کا انساں مر گیا ہے

مِرے کچھ خواب بھی وحشت بھرے تھے

نِگاہیں دیکھ کر وہ ڈر گیا ہے

مِرا یہ دُکھ مِرے ہر دُکھ پہ بھاری

مِرے ہاتھوں سے تیرا در گیا ہے

سُنا ہے دشت پاگل ہو رہا ہے

کہ اب کے قیس اپنے گھر گیا ہے

کیا معلوم مِلنے آ ہی جائے

بتانے حال نامہ بر گیا ہے


حورعین علی

No comments:

Post a Comment