Showing posts with label قیوم ناصر. Show all posts
Showing posts with label قیوم ناصر. Show all posts

Tuesday, 17 August 2021

خوشگوار موسم میں جسم کے سمندر پر

 خوشگوار موسم میں

جسم کے سمندر پر

خواہشوں کی کشتی ہے

بادبان کھلتے ہیں

قربتوں کے صحرا سے

دوریوں کے ساحل تک

Sunday, 27 June 2021

زندگیوں کی سب افواہیں جھوٹ فریب

 زندگیوں کی

سب افواہیں

جھوٹ فریب

موت کی

ساری خبریں

سچی ہوتی ہے

واجبی سی بانسری بجانے کے سوا

 نیرُو


واجبی سی

بانسری

بجانے کے سوا

جو کچھ اور

نہیں بجانا

جانتا

Thursday, 27 May 2021

میں نے سچ بولنا بچوں سے

 میں نے سچ بولنا

بچوں سے

اور جھوٹ

تاریخ کی کتابوں سے سیکھا

اور نظم لکھنے بیٹھ گیا

مگر

Saturday, 15 May 2021

کبھی کبھی وقت نکال کر گھر میں

 کبھی کبھی

وقت نکال کر

گھر میں

اِدھر اُدھر بکھرے

کاغذوں میں

بچوں کی شاعری بھی

Tuesday, 11 May 2021

وہی ہے زمیں جو کہ تھی

 وہی ہے زمیں

جو کہ تھی

اپنی زرخیزیوں کی امین

پھول ہی پھول ہیں

باغ میں

آج ہم تم نہیں

Monday, 10 May 2021

اٹھا رہا ہوں سر راہ پڑی ہوئی نظمیں

 اٹھا رہا ہوں سر راہ پڑی ہوئی نظمیں

شور ہے اور شور میں کیا کون کس کو کہہ رہا ہے

کچھ پتہ چلتا نہیں

شور جو گلیوں محلوں سے نکل کر 

پھیلتا ہے چار سو

قریہ بہ قریہ کو بہ کو

ادھر دیکھو یہ دارا ہے ادھر دیکھو سکندر ہے

 ادھر دیکھو

یہ دارا ہے

ادھر دیکھو 

سکندر ہے

اور ان کے پاؤں کے نیچے 

جو اک سیّال آتش ہے 

Sunday, 9 May 2021

جب میں اپنی جھونپڑی کے باہر

 جب میں اپنی

جھونپڑی کے باہر

چھوٹی چھوٹی

کیاریوں میں گندم، جو اور

سبزیاں اُگایا کرتا تھا

اس مشقت میں

Saturday, 8 May 2021

سارا جنگل ڈرا ہوا ہے

 مختصر نظم


سارا جنگل

ڈرا ہوا ہے

مرتے مرتے

بھیڑیا

کیا اعلان کرے گا؟

مجھے شاعری عمر کی آخری سیڑھیوں پر ملی

 مجھے شاعری عمر کی آخری سیڑھیوں پر ملی

اور اس نے کہا؛

کہ بڑے آدمی تم کہاں رہ گئے تھے

میں تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک چکی ہوں

اب جو تھوڑے سے باقی بچے ہو

وہ میرے لیے ہو

Friday, 7 May 2021

شاعروں نے جو نظمیں لکھیں

 شاعروں نے

جو

نظمیں لکھیں

تو کروڑو‌ں

 دِیے جل اٹھے

 اور پھر یُوں ہوا

Thursday, 6 May 2021

تھوڑی سی کوشش سے اپنے ملبے میں دب کر

 تھوڑی سی کوشش سے

اپنے ملبے میں دب کر

مرنے سے

بچا جا سکتا ہے

وقت کسی کو

جواب دہ نہیں

Wednesday, 20 January 2021

یہ ان دنوں کی بات ہے

یہ ان دنوں کی بات ہے


 جب میں اپنی

جھونپڑی کے باہر

چھوٹی چھوٹی

کیاریوں میں گندم، جو اور

سبزیاں اُگایا کرتا تھا