خوشگوار موسم میں
جسم کے سمندر پر
خواہشوں کی کشتی ہے
بادبان کھلتے ہیں
قربتوں کے صحرا سے
دوریوں کے ساحل تک
خوشگوار موسم میں
جسم کے سمندر پر
خواہشوں کی کشتی ہے
بادبان کھلتے ہیں
قربتوں کے صحرا سے
دوریوں کے ساحل تک
زندگیوں کی
سب افواہیں
جھوٹ فریب
موت کی
ساری خبریں
سچی ہوتی ہے
نیرُو
واجبی سی
بانسری
بجانے کے سوا
جو کچھ اور
نہیں بجانا
جانتا
میں نے سچ بولنا
بچوں سے
اور جھوٹ
تاریخ کی کتابوں سے سیکھا
اور نظم لکھنے بیٹھ گیا
مگر
کبھی کبھی
وقت نکال کر
گھر میں
اِدھر اُدھر بکھرے
کاغذوں میں
بچوں کی شاعری بھی
وہی ہے زمیں
جو کہ تھی
اپنی زرخیزیوں کی امین
پھول ہی پھول ہیں
باغ میں
آج ہم تم نہیں
اٹھا رہا ہوں سر راہ پڑی ہوئی نظمیں
شور ہے اور شور میں کیا کون کس کو کہہ رہا ہے
کچھ پتہ چلتا نہیں
شور جو گلیوں محلوں سے نکل کر
پھیلتا ہے چار سو
قریہ بہ قریہ کو بہ کو
ادھر دیکھو
یہ دارا ہے
ادھر دیکھو
سکندر ہے
اور ان کے پاؤں کے نیچے
جو اک سیّال آتش ہے
جب میں اپنی
جھونپڑی کے باہر
چھوٹی چھوٹی
کیاریوں میں گندم، جو اور
سبزیاں اُگایا کرتا تھا
اس مشقت میں
مختصر نظم
سارا جنگل
ڈرا ہوا ہے
مرتے مرتے
بھیڑیا
کیا اعلان کرے گا؟
مجھے شاعری عمر کی آخری سیڑھیوں پر ملی
اور اس نے کہا؛
کہ بڑے آدمی تم کہاں رہ گئے تھے
میں تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک چکی ہوں
اب جو تھوڑے سے باقی بچے ہو
وہ میرے لیے ہو
شاعروں نے
جو
نظمیں لکھیں
تو کروڑوں
دِیے جل اٹھے
اور پھر یُوں ہوا
تھوڑی سی کوشش سے
اپنے ملبے میں دب کر
مرنے سے
بچا جا سکتا ہے
وقت کسی کو
جواب دہ نہیں
یہ ان دنوں کی بات ہے
جب میں اپنی
جھونپڑی کے باہر
چھوٹی چھوٹی
کیاریوں میں گندم، جو اور
سبزیاں اُگایا کرتا تھا