Monday, 10 May 2021

اٹھا رہا ہوں سر راہ پڑی ہوئی نظمیں

 اٹھا رہا ہوں سر راہ پڑی ہوئی نظمیں

شور ہے اور شور میں کیا کون کس کو کہہ رہا ہے

کچھ پتہ چلتا نہیں

شور جو گلیوں محلوں سے نکل کر 

پھیلتا ہے چار سو

قریہ بہ قریہ کو بہ کو

شور زور آور ہے

اس کے سامنے ہر اک صدا کمزور ہے

بس شور ہے


قیوم ناصر

No comments:

Post a Comment