خود اپنا اعتبار گنواتا رہا ہوں میں
ذرے کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں
اندھی ہوا کو دوں کوئی الزام کس لیے
اپنے دیے کو آپ بجھاتا رہا ہوں میں
اک عمر کے ریاض کا حاصل نہ پوچھئے
ریگ رواں پہ نقش بناتا رہا ہوں میں
ہر چند مصلحت کا تقاضا کچھ اور تھا
آئینہ ہر کسی کو دکھاتا رہا ہوں میں
بچوں کے ہنستے کھیلتے چہروں کی اوٹ میں
اپنے دکھوں کی ٹیس چھپاتا رہا ہوں میں
یہ اور بات خود مِرے پاؤں نہ اٹھ سکے
اوروں کو راستہ تو دکھاتا رہا ہوں میں
سیفی فشار غم کی تمازت کے باوجود
حیرت ہے اپنی بات نبھاتا رہوں میں
بشیر سیفی
No comments:
Post a Comment