Monday, 10 May 2021

خود اپنا اعتبار گنواتا رہا ہوں میں

 خود اپنا اعتبار گنواتا رہا ہوں میں

ذرے کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں

اندھی ہوا کو دوں کوئی الزام کس لیے

اپنے دیے کو آپ بجھاتا رہا ہوں میں

اک عمر کے ریاض کا حاصل نہ پوچھئے

ریگ رواں پہ نقش بناتا رہا ہوں میں

ہر چند مصلحت کا تقاضا کچھ اور تھا

آئینہ ہر کسی کو دکھاتا رہا ہوں میں

بچوں کے ہنستے کھیلتے چہروں کی اوٹ میں

اپنے دکھوں کی ٹیس چھپاتا رہا ہوں میں

یہ اور بات خود مِرے پاؤں نہ اٹھ سکے

اوروں کو راستہ تو دکھاتا رہا ہوں میں

سیفی فشار غم کی تمازت کے باوجود

حیرت ہے اپنی بات نبھاتا رہوں میں


بشیر سیفی

No comments:

Post a Comment