دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے
اپنے مذاق طبع کی ایسی مثال دے
بخشے بہار کو جو نہ شائستگی کا رنگ
ایسی ہر ایک شے کو چمن سے نکال دے
پچھلی رتوں کے داغ تو سب ماند پڑ گئے
اب کے بہار زخم کوئی لا زوال دے
دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے
اپنے مذاق طبع کی ایسی مثال دے
بخشے بہار کو جو نہ شائستگی کا رنگ
ایسی ہر ایک شے کو چمن سے نکال دے
پچھلی رتوں کے داغ تو سب ماند پڑ گئے
اب کے بہار زخم کوئی لا زوال دے
دل ہے کہ جستجو کے سرابوں میں قید ہے
ورنہ ہر ایک چہرہ نقابوں میں قید ہے
فرصت کہاں کہ ڈھونڈے غم دہر کا علاج
ہر شخص اپنے غم کے حسابوں میں قید ہے
کیا خاک ہوں نصیب یہاں سر بلندیاں
جوش عمل تو آج کتابوں میں قید ہے
شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت
اندھیری رات میں جگنو چمک چکا ہے بہت
رئیس شہر! مِرا اور امتحان نہ لے
کہ میرے صبر کا ساغر چھلک چکا ہے بہت
نہ کام آئے گی اب شمع دل کی تابانی
تعلقات کا شعلہ بھڑک چکا ہے بہت
اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے
چنگاریوں کے ڈھیر کو کوئی ہوا نہ دے
مشکل سے کچھ ہوا ہے میسر مجھے سکوں
ماضی کا کوئی درد مجھے پھر جگا نہ دے
گھر پھونکنے سے پہلے مِرا تو یہ سوچ لے
شعلہ کہیں یہ تیرے بھی گھر کو جلا نہ دے