Showing posts with label معصوم شرقی. Show all posts
Showing posts with label معصوم شرقی. Show all posts

Tuesday, 24 March 2026

دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے

 دشمن کے طنز کو بھی سلیقے سے ٹال دے 

اپنے مذاق طبع کی ایسی مثال دے 

بخشے بہار کو جو نہ شائستگی کا رنگ 

ایسی ہر ایک شے کو چمن سے نکال دے 

پچھلی رتوں کے داغ تو سب ماند پڑ گئے 

اب کے بہار زخم کوئی لا زوال دے 

Sunday, 12 January 2025

دل ہے کہ جستجو کے سرابوں میں قید ہے

 دل ہے کہ جستجو کے سرابوں میں قید ہے

ورنہ ہر ایک چہرہ نقابوں میں قید ہے

فرصت کہاں کہ ڈھونڈے غم دہر کا علاج

ہر شخص اپنے غم کے حسابوں میں قید ہے

کیا خاک ہوں نصیب یہاں سر بلندیاں

جوش عمل تو آج کتابوں میں قید ہے

Wednesday, 4 December 2024

شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت

 شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت

اندھیری رات میں جگنو چمک چکا ہے بہت

رئیس شہر! مِرا اور امتحان نہ لے

کہ میرے صبر کا ساغر چھلک چکا ہے بہت

نہ کام آئے گی اب شمع دل کی تابانی

تعلقات کا شعلہ بھڑک چکا ہے بہت

Tuesday, 3 December 2024

اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے

  اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے

چنگاریوں کے ڈھیر کو کوئی ہوا نہ دے

مشکل سے کچھ ہوا ہے میسر مجھے سکوں

ماضی کا کوئی درد مجھے پھر جگا نہ دے

گھر پھونکنے سے پہلے مِرا تو یہ سوچ لے

شعلہ کہیں یہ تیرے بھی گھر کو جلا نہ دے