تہِ گرداب تو بچنا مِرا دُشوار ہے پھر بھی
کنارے دُور ہیں ٹُوٹی ہوئی پتوار ہے پھر بھی
تھکن سے چُور ہوں، سر رکھ دیا ہے اس کے سینے پر
مجھے معلوم ہے یہ ریت کی دیوار ہے پھر بھی
متاعِ رشتۂ جاں کاروبار منفعت کب تھی
خریدروں کے حلقے میں سرِ بازار ہے پھر بھی
تہِ گرداب تو بچنا مِرا دُشوار ہے پھر بھی
کنارے دُور ہیں ٹُوٹی ہوئی پتوار ہے پھر بھی
تھکن سے چُور ہوں، سر رکھ دیا ہے اس کے سینے پر
مجھے معلوم ہے یہ ریت کی دیوار ہے پھر بھی
متاعِ رشتۂ جاں کاروبار منفعت کب تھی
خریدروں کے حلقے میں سرِ بازار ہے پھر بھی
عذابِ جاں ہوا پستہ قدوں کے شہر میں آنا
سرِ آئینہ خانہ خواب کے شیشے بکھر جانا
میں وہ طائر کہ ہے پرواز جس کی مستقل جاری
تلاشِ لا مکاں میں کہکشاں کے پار ہے جانا
کہاں وہ چل دئیے ہیں قافلے ڈھونڈیں کہاں ان کو
نہ ہے گردِ سفر باقی،۔ نہ رستہ جانا پہچانا
بھول بھلیاں
بھول بھلیوں کے اندر اک
دوڑ مچی ہے
پیچیدہ رستوں کے لاکھوں
جال بچھے ہیں
نئی نئی گلیاں، اونچی اونچی دیواریں
مقتل سے جب گزر کے حریفانہ آئیے
اک دشتِ بے کنار میں پھر گھر بنائیے
تاریک ہو نہ پائے کبھی دامنِ فلک
پلکوں سے تا بہ صبح ستارے جلائیے
ہونے نہ پائے پھولوں کا محتاج گلستاں
دل کے ہزار زخم ہمیشہ کھلائیے
تکمیل
وہ نازک تن
لچکتی جھومتی ڈالی
کھلنڈری سی
جسے بس کھیلنا، اٹھکیلیاں کرنا ہی بھاتا تھا
بہت ناداں تھی اپنے اس لڑکپن کی بلوغت میں
یہ سوچا تک نہیں تھا اس نے آخر زندگی کیا ہے
اپنے بچوں کے لیے کہی گئی ایک نظم سے اقتباس
مِرے عزیز، مِرے پیارے لاڈلے بچو
تمہیں تو اُڑنے کو سات آسماں ملے لیکن
میں خشک بانہوں کی آغوش اپنی وا کر کے
تمہاری راہ میں پلکوں کو ہوں بچھائے ہوئے
چراغ آنکھوں کی دہلیز پر جلائے ہوئے
اور اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے ہوئے
ہے آسیبوں کا سایا میں جہاں ہوں
شبِ دشتِ بلا میں بے اماں ہوں
ہوا کی زد پہ جیسے شمع کی لو
میں اپنے حوصلوں کا امتحاں ہوں
چراغاں سا ہے دروازے پہ لیکن
میں اندر سے کوئی تیرہ مکاں ہوں
تِری تلاش میں جو خود کو بھول آئے تھے
پتا وہ اپنا کبھی ڈھونڈنے نہ پائے تھے
کسے خبر تھی کہ پھولوں میں بھی ہنر ہے وہی
کس احتیاط سے کانٹوں سے بچ کے آئے تھے
وہ بے حسی کا تھا عالم ذرا خبر نہ ہوئی
کہ روشنی تھی سرِ رہگزر کہ سائے تھے