Showing posts with label پروین شیر. Show all posts
Showing posts with label پروین شیر. Show all posts

Saturday, 30 April 2022

تہ گرداب تو بچنا مرا دشوار ہے پھر بھی

تہِ گرداب تو بچنا مِرا دُشوار ہے پھر بھی

کنارے دُور ہیں ٹُوٹی ہوئی پتوار ہے پھر بھی

تھکن سے چُور ہوں، سر رکھ دیا ہے اس کے سینے پر

مجھے معلوم ہے یہ ریت کی دیوار ہے پھر بھی

متاعِ رشتۂ جاں کاروبار منفعت کب تھی

خریدروں کے حلقے میں سرِ بازار ہے پھر بھی

Monday, 8 November 2021

عذاب جاں ہوا پستہ قدوں کے شہر میں آنا

 عذابِ جاں ہوا پستہ قدوں کے شہر میں آنا

سرِ آئینہ خانہ خواب کے شیشے بکھر جانا

میں وہ طائر کہ ہے پرواز جس کی مستقل جاری

تلاشِ لا مکاں میں کہکشاں کے پار ہے جانا

کہاں وہ چل دئیے ہیں قافلے ڈھونڈیں کہاں ان کو

نہ ہے گردِ سفر باقی،۔ نہ رستہ جانا پہچانا

Sunday, 24 October 2021

بھول بھلیوں کے اندر اک دوڑ مچی ہے

 بھول بھلیاں


بھول بھلیوں کے اندر اک

دوڑ مچی ہے

پیچیدہ رستوں کے لاکھوں

جال بچھے ہیں

نئی نئی گلیاں، اونچی اونچی دیواریں

Thursday, 5 August 2021

مقتل سے جب گزر کے حریفانہ آئیے

 مقتل سے جب گزر کے حریفانہ آئیے

اک دشتِ بے کنار میں پھر گھر بنائیے

تاریک ہو نہ پائے کبھی دامنِ فلک

پلکوں سے تا بہ صبح ستارے جلائیے

ہونے نہ پائے پھولوں کا محتاج گلستاں

دل کے ہزار زخم ہمیشہ کھلائیے

Tuesday, 3 August 2021

وہ نازک تن لچکتی جھومتی ڈالی

 تکمیل


وہ نازک تن

لچکتی جھومتی ڈالی

کھلنڈری سی

جسے بس کھیلنا، اٹھکیلیاں کرنا ہی بھاتا تھا

بہت ناداں تھی اپنے اس لڑکپن کی بلوغت میں

یہ سوچا تک نہیں تھا اس نے آخر زندگی کیا ہے

Monday, 2 August 2021

مرے عزیز مرے پیارے لاڈلے بچو

 اپنے بچوں کے لیے کہی گئی ایک نظم سے اقتباس 


مِرے عزیز، مِرے پیارے لاڈلے بچو

تمہیں تو اُڑنے کو سات آسماں ملے لیکن

میں خشک بانہوں کی آغوش اپنی وا کر کے

تمہاری راہ میں پلکوں کو ہوں بچھائے ہوئے

چراغ آنکھوں کی دہلیز پر جلائے ہوئے

اور اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے ہوئے

Thursday, 29 July 2021

ہے آسیبوں کا سایا میں جہاں ہوں

 ہے آسیبوں کا سایا میں جہاں ہوں

شبِ دشتِ بلا میں بے اماں ہوں 

ہوا کی زد پہ جیسے شمع کی لو 

میں اپنے حوصلوں کا امتحاں ہوں 

چراغاں سا ہے دروازے پہ لیکن 

میں اندر سے کوئی تیرہ مکاں ہوں 

Monday, 26 July 2021

تری تلاش میں جو خود کو بھول آئے تھے

 تِری تلاش میں جو خود کو بھول آئے تھے

پتا وہ اپنا کبھی ڈھونڈنے نہ پائے تھے

کسے خبر تھی کہ پھولوں میں بھی ہنر ہے وہی

کس احتیاط سے کانٹوں سے بچ کے آئے تھے

وہ بے حسی کا تھا عالم ذرا خبر نہ ہوئی

کہ روشنی تھی سرِ رہگزر کہ سائے تھے