اپنے بچوں کے لیے کہی گئی ایک نظم سے اقتباس
مِرے عزیز، مِرے پیارے لاڈلے بچو
تمہیں تو اُڑنے کو سات آسماں ملے لیکن
میں خشک بانہوں کی آغوش اپنی وا کر کے
تمہاری راہ میں پلکوں کو ہوں بچھائے ہوئے
چراغ آنکھوں کی دہلیز پر جلائے ہوئے
اور اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے ہوئے
اسی امید کو دل میں ہوں میں بسائے ہوئے
اگر ذرا سی بھی مہلت کبھی جو تم پاؤ
تو تھوڑی دیر کو دم لینے گھر کو لوٹ آؤ
پروین شیر
No comments:
Post a Comment