Showing posts with label اقبال ثاقب. Show all posts
Showing posts with label اقبال ثاقب. Show all posts

Wednesday, 21 August 2024

مرے سخن میں یہی اک کلام کافی ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِرے سخن میں یہی اِک کلام کافی ہے

نبیؐ کی نعت لکھوں بس یہ کام کافی ہے

نہ شہرتیں، نہ ہی اعلیٰ مقام کافی ہے

فقیر کو تو محمدﷺ کا نام کافی ہے

بہشت، خُلد بریں اور عدن نہ مانگوں میں

مدینے پاک میں تھوڑا قیام کافی ہے

Sunday, 2 January 2022

کچھ اس طرح سے قلندر پہ عید گزری ہے

 کچھ اس طرح سے قلندر پہ عید گزری ہے

کہ آنسوؤں کے سمندر پہ عید گزری ہے

یوں تخت و تاج پہ خوشیاں سمیٹنے والو

کسی فقیر کی چادر پہ عید گزری ہے

مِرے رقیب سے پیغام لے کے آ قاصد

کہ کس طرح مِرے دلبر پہ عید گزری ہے

Tuesday, 30 November 2021

خلد کی راہ کے رہبر کو عمر کہتے ہیں

 منقبت در مدحِ سیدنا عمرؓ فاروق


خلد کی راہ کے رہبر کو عمرؓ کہتے ہیں

عدل و انصاف کے پیکر کو عمر کہتے ہیں

اپنے دلدار کو دلبر کو عمر کہتے ہیں

ہم چمکتے ہوئے اختر کو عمر کہتے ہیں

جس کی ہر موج سے انصاف کے موتی نکلے

اس گہر بار سمندر کو عمر کہتے ہیں

Monday, 29 November 2021

نام رکھتا ہوں نہ میں مال نہ زر رکھتا ہوں

 نام رکھتا ہوں نہ میں مال نہ زر رکھتا ہوں

ہاں مگر ماں کی دعاؤں کا اثر رکھتا ہوں

آسمانوں سے بلندی پہ نظر رکھتا ہوں

جب بھی ماں آپ کی آغوش میں سر رکھتا ہوں

لاکھ طوفان ہوں ٹکرا کے گزرتا ہوں میں

ماں کی پلکوں کے ستاروں کی خبر رکھتا ہوں

Saturday, 27 November 2021

برق نگاہ یار گری آشیاں کے بیچ

 برقِ نگاہِ یار گری آشیاں کے بیچ

بسمل تڑپ کے رہ گیا جلتے مکاں کے بیچ

بلبل! چمن سے دور کہیں آشیاں بنا

صیّاد باغباں ہیں اسی گلستاں کے بیچ

ڈولی نہ پالکی ہے، نہ رقص و سرود ہے

کس کی برات نکلی ہے آہ و فغاں کے بیچ

Friday, 3 September 2021

چھیڑ مت چشم نم فقیروں کو

 چھیڑ مت چشم نم فقیروں کو

عشق میں مست دم فقیروں کو

یا الٰہی! اب اس زمانے میں

کون پوچھے گا ہم فقیروں کو

دِیں کو دنیا میں عام کرنے کا

لگ گیا ایک غم فقیروں کو