عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرے سخن میں یہی اِک کلام کافی ہے
نبیؐ کی نعت لکھوں بس یہ کام کافی ہے
نہ شہرتیں، نہ ہی اعلیٰ مقام کافی ہے
فقیر کو تو محمدﷺ کا نام کافی ہے
بہشت، خُلد بریں اور عدن نہ مانگوں میں
مدینے پاک میں تھوڑا قیام کافی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرے سخن میں یہی اِک کلام کافی ہے
نبیؐ کی نعت لکھوں بس یہ کام کافی ہے
نہ شہرتیں، نہ ہی اعلیٰ مقام کافی ہے
فقیر کو تو محمدﷺ کا نام کافی ہے
بہشت، خُلد بریں اور عدن نہ مانگوں میں
مدینے پاک میں تھوڑا قیام کافی ہے
کچھ اس طرح سے قلندر پہ عید گزری ہے
کہ آنسوؤں کے سمندر پہ عید گزری ہے
یوں تخت و تاج پہ خوشیاں سمیٹنے والو
کسی فقیر کی چادر پہ عید گزری ہے
مِرے رقیب سے پیغام لے کے آ قاصد
کہ کس طرح مِرے دلبر پہ عید گزری ہے
منقبت در مدحِ سیدنا عمرؓ فاروق
خلد کی راہ کے رہبر کو عمرؓ کہتے ہیں
عدل و انصاف کے پیکر کو عمر کہتے ہیں
اپنے دلدار کو دلبر کو عمر کہتے ہیں
ہم چمکتے ہوئے اختر کو عمر کہتے ہیں
جس کی ہر موج سے انصاف کے موتی نکلے
اس گہر بار سمندر کو عمر کہتے ہیں
نام رکھتا ہوں نہ میں مال نہ زر رکھتا ہوں
ہاں مگر ماں کی دعاؤں کا اثر رکھتا ہوں
آسمانوں سے بلندی پہ نظر رکھتا ہوں
جب بھی ماں آپ کی آغوش میں سر رکھتا ہوں
لاکھ طوفان ہوں ٹکرا کے گزرتا ہوں میں
ماں کی پلکوں کے ستاروں کی خبر رکھتا ہوں
برقِ نگاہِ یار گری آشیاں کے بیچ
بسمل تڑپ کے رہ گیا جلتے مکاں کے بیچ
بلبل! چمن سے دور کہیں آشیاں بنا
صیّاد باغباں ہیں اسی گلستاں کے بیچ
ڈولی نہ پالکی ہے، نہ رقص و سرود ہے
کس کی برات نکلی ہے آہ و فغاں کے بیچ
چھیڑ مت چشم نم فقیروں کو
عشق میں مست دم فقیروں کو
یا الٰہی! اب اس زمانے میں
کون پوچھے گا ہم فقیروں کو
دِیں کو دنیا میں عام کرنے کا
لگ گیا ایک غم فقیروں کو