ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک
زنجیروں میں بند تھے پاگل ہونے تک
عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گے
ہم بھی مُرتد اس کے مکمل ہونے تک
میں پانی تھا سورج گھور رہا تھا مجھے
کیا کرتا بے بس تھا بادل ہونے تک
ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک
زنجیروں میں بند تھے پاگل ہونے تک
عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گے
ہم بھی مُرتد اس کے مکمل ہونے تک
میں پانی تھا سورج گھور رہا تھا مجھے
کیا کرتا بے بس تھا بادل ہونے تک