Showing posts with label رفیق راز. Show all posts
Showing posts with label رفیق راز. Show all posts

Thursday, 28 January 2021

ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک

 ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک

زنجیروں میں بند تھے پاگل ہونے تک

عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گے

ہم بھی مُرتد اس کے مکمل ہونے تک

میں پانی تھا سورج گھور رہا تھا مجھے 

کیا کرتا بے بس تھا بادل ہونے تک 

Monday, 19 December 2016

ہم تو اندر سے کوئی غار تھے اب گھر ہوئے ہیں

ہم تو اندر سے کوئی غار تھے اب گھر ہوئے ہیں
یعنی آباد اسے کر کے قلندر ہوئے ہیں
کیا ہوا ہاتھ اگر آپ کو ملنے سے رہے
جنگ میں آپ کے نیزے تو ثمرور ہوئے ہیں
ہم تو اک رنگ تھے دنیا نے اڑایا تھا جسے
اب تِری آنکھ کے اعجاز سے منظر ہوئے ہیں

میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے

میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے
پھر اگر چاہو کرو وابستۂ صحرا مجھے
پھیلتا ہی جاتا ہے اس میں خموشی کی طرح
قلزمِ آواز نے ہر سمت سے گھیرا مجھے
میرے ہونے یا نہ ہونے سے اسے مطلب نہ تھا
تیرے ہونے کا تماشا ہی لگی دنیا مجھے

دعا قبول ہوئی بادشہ سلامت کی

دعا قبول ہوئی بادشہ سلامت کی
عدو کی فوج کے سالار نے بغاوت کی
مِرے بدن پہ رواں دجلہ و فرات بھی تھے
مگر لبوں پہ مِرے پیاس تھی قیامت کی
تمام نخلِ ثمردار اکھڑ گئے جڑ سے
یہاں سے موسمِ راحت فزا نے ہجرت کی

اگر چٹان کی یہ چپ کلام ہے سائیں

اگر چٹان کی یہ چپ کلام ہے سائیں
تو پھر ہماری سماعت ہی خام ہے سائیں
تہی ہے زر سے مگر ہے خمار سے لبریز
فقیر کا یہی کشکول،۔ جام ہے سائیں
بجا کہ شہر میں ارزاں بہت ہیں خواب مگر 
یہاں تو نیند ہی ہم پر حرام ہے سائیں

عجیب خامشی ہے غل مچاتی رہتی ہے

عجیب خامشی ہے، غُل مچاتی رہتی ہے
یہ آسمان ہی سر پر اٹھاتی رہتی ہے
کِیا ہے عشق تو ثابت قدم بھی رہنا سیکھ
میاں! یہ ہجر کی آفت تو آتی رہتی ہے
ڈرو نہیں یہ کوئی سانپ زیرِ کاہ نہیں
ہوا ہے اور وہی سرسراتی رہتی ہے

Sunday, 1 November 2015

ایک صراحی بولی قلقل اللہ ہو

ایک صراحی بولی قُل قُل، اللہ ہُو
پھر کیا تھا ہر سمت مچا غل اللہ ہو
میں وہ سوار کہ جس کی رہ میں غبار نہ گرد
میری سواری اسپِ تخیل، اللہ ہو
اپنے وجود میں جھانک کے میں تو ڈر ہی گیا
جز میں یقیناً رہتا ہے کل، اللہ ہو

تمہارے کانپتے ہاتھوں میں اک گلاس لکھوں

تمہارے کانپتے ہاتھوں میں اک گلاس لکھوں
اور اپنے تپتے لبوں پر شدید پیاس لکھوں
میں جانتا ہوں گھنی دھند میں ضروری ہے
کہ اپنی آنکھ کو منظر کے آس پاس لکھوں
قلم بھی سونے کا آیا ہے اب کے نذرانہ
وہ چاہتے ہیں کہ میں سنگ کو کپاس لکھوں

Tuesday, 27 October 2015

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے

جسم دیوار ہے، دیوار میں در کرنا ہے
روح اک غار ہے اس غار میں گھر کرنا ہے
ایک ہی قطرہ تو ہے اشکِ ندامت کا بہت
کون سے دشت و بیابان کو تر کرنا ہے
خاک ہو جانے پہ اے خاک بسر کیوں ہو بضد
کیا تمہیں دوشِ ہوا پر بھی سفر کرنا ہے

غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں

غضب کی کاٹ تھی اب کے ہوا کے طعنوں میں
شگاف پڑ گئے ہیں بے زباں چٹانوں میں
یہ اور بات کہ پتھر کے ہونٹ ہیں ورنہ
ہم ایک آگ لیے پھرتے ہیں دہانوں میں
سیاہ شہر کی قسمت میں میرا فیض کہاں
چراغِ نذر ہوں، جلتا ہوں آستانوں میں

Saturday, 14 December 2013

سدا بہار ہے کتنا یہ شاخسانۂ درد

سدا بہار ہے کتنا یہ شاخسانۂ درد
کہ بِیت کر بھی گزرتا نہیں زمانۂ درد
صدائے شورِ سگاں تک یہاں نہیں آتی
عجب سکوت سے معمور ہے یہ خانۂ درد
چراغِ منظرِ بے منظری اس آنکھ میں ہے
اسی کے دَم سے ہے روشن یہ آستانۂ درد