ہم تو اندر سے کوئی غار تھے اب گھر ہوئے ہیں
یعنی آباد اسے کر کے قلندر ہوئے ہیں
کیا ہوا ہاتھ اگر آپ کو ملنے سے رہے
جنگ میں آپ کے نیزے تو ثمرور ہوئے ہیں
ہم تو اک رنگ تھے دنیا نے اڑایا تھا جسے
کون آیا ہے یہاں خیمہ و خرگاہ کے ساتھ
ہم کہ پُر ہول بیاباں تھے، کیا سر ہوئے ہیں
پیچ در پیچ خموشی کی طرح تھے ہم بھی
حرف و آہنگ میں دُھل کر تمہیں ازبر ہوئے ہیں
رفیق راز
No comments:
Post a Comment