Monday, 19 December 2016

ہم تو اندر سے کوئی غار تھے اب گھر ہوئے ہیں

ہم تو اندر سے کوئی غار تھے اب گھر ہوئے ہیں
یعنی آباد اسے کر کے قلندر ہوئے ہیں
کیا ہوا ہاتھ اگر آپ کو ملنے سے رہے
جنگ میں آپ کے نیزے تو ثمرور ہوئے ہیں
ہم تو اک رنگ تھے دنیا نے اڑایا تھا جسے
اب تِری آنکھ کے اعجاز سے منظر ہوئے ہیں
کون آیا ہے یہاں خیمہ و خرگاہ کے ساتھ
ہم کہ پُر ہول بیاباں تھے، کیا سر ہوئے ہیں
پیچ در پیچ خموشی کی طرح تھے ہم بھی
حرف و آہنگ میں دُھل کر تمہیں ازبر ہوئے ہیں

رفیق راز

No comments:

Post a Comment