میں ابھی اک بوند ہوں پہلے کرو دریا مجھے
پھر اگر چاہو کرو وابستۂ صحرا مجھے
پھیلتا ہی جاتا ہے اس میں خموشی کی طرح
قلزمِ آواز نے ہر سمت سے گھیرا مجھے
میرے ہونے یا نہ ہونے سے اسے مطلب نہ تھا
آشنا اس پار کے منظر نہیں مجھ سے مگر
جانتا ہے دھند کی دیوار کا سایا مجھے
شکر ہے میں اک صدا تھا، طائرِ معنی نہ تھا
کر دیا تنہا سگانِ دہر نے کتنا مجھے
رفیق راز
No comments:
Post a Comment