کوئی موسم بھی سزاوارِ محبت نہیں اب
زرد پتوں کو ہواؤں سے شکایت نہیں اب
شور ہی کربِ تمنا کی علامت نہ رہے
کسی دیوار میں بھی گوشِ سماعت نہیں اب
جل چکے لوگ تو اب دھوپ میں ٹھنڈک آئی
تھی جو سورج کو درختوں سے عداوت نہیں اب
کوئی موسم بھی سزاوارِ محبت نہیں اب
زرد پتوں کو ہواؤں سے شکایت نہیں اب
شور ہی کربِ تمنا کی علامت نہ رہے
کسی دیوار میں بھی گوشِ سماعت نہیں اب
جل چکے لوگ تو اب دھوپ میں ٹھنڈک آئی
تھی جو سورج کو درختوں سے عداوت نہیں اب