Showing posts with label جوہر میر. Show all posts
Showing posts with label جوہر میر. Show all posts

Thursday, 10 February 2022

کوئی موسم بھی سزاوار محبت نہیں اب

 کوئی موسم بھی سزاوارِ محبت نہیں اب

زرد پتوں کو ہواؤں سے شکایت نہیں اب

شور ہی کربِ تمنا کی علامت نہ رہے

کسی دیوار میں بھی گوشِ سماعت نہیں اب

جل چکے لوگ تو اب دھوپ میں ٹھنڈک آئی

تھی جو سورج کو درختوں سے عداوت نہیں اب

Monday, 31 August 2020

کوئی موسم بھی سزاوارِ محبت نہیں اب

کوئی موسم بھی سزاوارِ محبت نہیں اب
زرد پتوں کو ہواؤں سے شکایت نہیں اب 
شور ہی کربِ تمنا کی علامت نہ رہے 
کسی دیوار میں بھی گوشِ سماعت نہیں اب 
جل چکے لوگ تو اب دھوپ میں ٹھنڈک آئی 
تھی جو سورج کو درختوں سے عداوت نہیں اب

جہاز اس کے گناہوں کا بوجھ اٹھا نہ سکا

ڈکٹیٹر ضیاع کے مرنے پر

نہ آئی رت کوئی ایسی کہ وہ رلا نہ سکا
وہ مر گیا تو میں حیرت سے مسکرا نہ سکا
عجیب حادثہ ہے مشینوں کی با ضمیری بھی
جہاز اس کے گناہوں کا بوجھ اٹھا نہ سکا
اک حادثہ ہے مشینوں کی با ضمیری بھی
جہاز اس کے گناہوں کا بوجھ اٹھا نہ سکا

Sunday, 9 October 2016

عیب بھی تیرے ہنر لگتے ہیں

عیب بھی تیرے ہنر لگتے ہیں
تیری فرقت کا ثمر لگتے ہیں
کل جو قدموں میں بچھے جاتے تھے
اب وہ سائے بھی شجر لگتے ہیں 
وہ اڑتے پھرتے ہیں، حیرت کیا ہے
چیونٹیوں کے بھی تو پر لگتے ہیں 

روز ہوتی ہے قیامت برپا

ملک کے حالات کی ترجمانی کرتی ایک نظم

روز ہوتی ہے قیامت برپا
روز ہوتی ہے اجل کی سازش
روز ہوتی ہے لہو کی بارش
روز گِرتی ہیں کڑیل لاشیں
روز ڈھلتے ہیں چمکتے سورج
روز ہو جاتی ہیں بیوہ شامیں
دیجۓ پُرسہ کسے
کس کی کمر کو تھامیں

جوہر میر 

اسلام آباد کے کوفے سے میں سندھ مدینے آئی ہوں

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹو کی سہالہ جیل سے رہائی کے بعد کہی گئی ایک نظم

اسلام آباد کے کوفے سے
میں سندھ مدینے آئی ہوں
مت پوچھو کیا کھو آئی ہوں
مت پوچھو میں کیا لائی ہوں
کچھ منظر ہیں، کچھ یادیں ہیں
کچھ آنسو، کچھ فریادیں ہیں
کچھ لمحوں کی سوغاتیں ہیں
کچھ گھڑیوں کی رُودادیں ہیں

جہنم کا پودا

ہِجو بر ضیا الحق 

جہنم کا پودا
وہ جہنم کا پودا ہے 
دور تک اس کی پھیلی جڑیں شِمر تک تو نظر آتی ہیں 
اس سے آگے کہاں جاتی ہیں 
اس کے آبا و اجداد کس کو خبر کون تھے 
نمرود و ہامان تھے، کہ فرعون تھے