ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹو کی سہالہ جیل سے رہائی کے بعد کہی گئی ایک نظم
اسلام آباد کے کوفے سے
میں سندھ مدینے آئی ہوں
مت پوچھو کیا کھو آئی ہوں
مت پوچھو میں کیا لائی ہوں
کچھ منظر ہیں، کچھ یادیں ہیں
کچھ آنسو، کچھ فریادیں ہیں
کچھ لمحوں کی سوغاتیں ہیں
کچھ سنگ زادوں کے تحفے ہیں
جو کچھ بھی ملا لے آئی ہوں
زینب کی خطابت کا صدقہ
شبیر سے مانگ کے لائی ہوں
جوہر میر
No comments:
Post a Comment