ہِجو بر ضیا الحق
جہنم کا پودا
وہ جہنم کا پودا ہے
دور تک اس کی پھیلی جڑیں شِمر تک تو نظر آتی ہیں
اس سے آگے کہاں جاتی ہیں
اس کے آبا و اجداد کس کو خبر کون تھے
اس کا سایہ دھواں
آگ اس کا ثمر
شعلہ اس کی زباں
لفظ بارود کی سنسناتی ہوئ گولیاں
اور آواز صحراؤں کا بانجھ پن
ہاتھ سانپوں کے پھن
تیز تلوار سی انگلیاں
زہر سانسوں میں، آنکھوں میں تاریکیاں
اس کی پوشاک بے غیرتی
بے ضمیری کُلاہ
قامتِ ناز پر خندہ زن پستیاں
خونِ انسان اس کی غذا
جھوٹ اس کی غذا
جوہر میر
No comments:
Post a Comment