بس ایک ہی تو یار تھا، نہیں رہا
وہی سکوں قرار تھا، نہیں رہا
نہیں رہا وہ شخص میرا ہم نشیں
وہ میرا غم گسار تھا، نہیں رہا
جو ڈس گیا ہے گُھس کے آستین میں
اُسی پہ اعتبار تھا، نہیں رہا
بس ایک ہی تو یار تھا، نہیں رہا
وہی سکوں قرار تھا، نہیں رہا
نہیں رہا وہ شخص میرا ہم نشیں
وہ میرا غم گسار تھا، نہیں رہا
جو ڈس گیا ہے گُھس کے آستین میں
اُسی پہ اعتبار تھا، نہیں رہا
ضبط گریہ یوں آزمائیں گے
ذکرِ جاناں پہ مسکرائیں گے
تُو اگر لوٹ کر بھی آ جائے
ہم تجھے منہ نہیں لگائیں گے
بات کر لیں گے ہم پرندوں سے
اور پیڑوں کو دُکھ سنائیں گے
درد سینے میں ہم نے ہیں پالے ہوئے
اور زباں پر پڑے اپنی تالے ہوئے
پہلے توڑی گئیں، پھر نبھائیں گئیں
نسبتوں میں کچھ ایسے حلالے ہوئے
جی رہی ہوں بظاہر سکوں سے مگر
دل دروں میں ہوں طوفاں سنبھالے ہوئے
آہ و فغاں عبث تھا غمخوار تک نہ پہنچا
نالہ مِرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا
صیاد رو رہا ہے اس کی خبر بھی لیجے
تیرا فریب کیونکر یلغار تک نہ پہنچا
جالا لگا دیا تھا مکڑی نے اس دہن پر
باعث اسی کے دشمن پھر غار تک نہ پہنچا
مکار مصنف سے قلم چھین کے رکھ لو
غدار سپہ گر سے علم چھین کے رکھ لو
جس آنکھ کو رونے کا ہُنر تک نہیں آتا
اس چشمِ دریدہ سے وہ غم چھین کے رکھ لو
رہگیر کو بتلا کہ؛ رہِ امن کو چُن لے
جائے وہ مخالف تو قدم چھین کے رکھ لو