Showing posts with label تنزیلہ مہروی. Show all posts
Showing posts with label تنزیلہ مہروی. Show all posts

Friday, 16 December 2022

بس ایک ہی تو یار تھا نہیں رہا

 بس ایک ہی تو یار تھا، نہیں رہا

وہی سکوں قرار تھا، نہیں رہا

نہیں رہا وہ شخص میرا ہم نشیں

وہ میرا غم گسار تھا، نہیں رہا

جو ڈس گیا ہے گُھس کے آستین میں

اُسی پہ اعتبار تھا، نہیں رہا

Sunday, 11 September 2022

ضبط گریہ یوں آزمائیں گے

 ضبط گریہ یوں آزمائیں گے

ذکرِ جاناں پہ مسکرائیں گے

تُو اگر لوٹ کر بھی آ جائے

ہم تجھے منہ نہیں لگائیں گے

بات کر لیں گے ہم پرندوں سے

اور پیڑوں کو دُکھ سنائیں گے

Friday, 7 January 2022

درد سینے میں ہم نے ہیں پالے ہوئے

 درد سینے میں ہم نے ہیں پالے ہوئے

اور زباں پر پڑے اپنی تالے ہوئے

پہلے توڑی گئیں، پھر نبھائیں گئیں

نسبتوں میں کچھ ایسے حلالے ہوئے

جی رہی ہوں بظاہر سکوں سے مگر

دل دروں میں ہوں طوفاں سنبھالے ہوئے

Monday, 5 July 2021

آہ و فغاں عبث تھا غمخوار تک نہ پہنچا

 آہ و فغاں عبث تھا غمخوار تک نہ پہنچا

نالہ مِرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

صیاد رو رہا ہے اس کی خبر بھی لیجے

تیرا فریب کیونکر یلغار تک نہ پہنچا

جالا لگا دیا تھا مکڑی نے اس دہن پر

باعث اسی کے دشمن پھر غار تک نہ پہنچا

Sunday, 4 July 2021

مکار مصنف سے قلم چھین کے رکھ لو

 مکار مصنف سے قلم چھین کے رکھ لو

غدار سپہ گر سے علم چھین کے رکھ لو

جس آنکھ کو رونے کا ہُنر تک نہیں آتا

اس چشمِ دریدہ سے وہ غم چھین کے رکھ لو

رہگیر کو بتلا کہ؛ رہِ امن کو چُن لے

جائے وہ مخالف تو قدم چھین کے رکھ لو