مکار مصنف سے قلم چھین کے رکھ لو
غدار سپہ گر سے علم چھین کے رکھ لو
جس آنکھ کو رونے کا ہُنر تک نہیں آتا
اس چشمِ دریدہ سے وہ غم چھین کے رکھ لو
رہگیر کو بتلا کہ؛ رہِ امن کو چُن لے
جائے وہ مخالف تو قدم چھین کے رکھ لو
اس دور کے واعظ سے ہے مطلوب نصیحت
بٹتا ہے جو فرقوں میں حکم چھین کے رکھ لو
جس قوم نے پامال کیا دِین کو اپنے
اس قوم سے اب فخرِ اُمم چھین کے رکھ لو
ممنوعِ ثمر خُورد، ہوس کار بنے ہیں
ابلیس کے یاروں سے اِرم چھین کے رکھ لو
انکارِ مسلسل جو کرے جہل کی مانند
مہرو سی سیہ دل سے حرم چھین کے رکھ لو
تنزیلہ مہروی
No comments:
Post a Comment