مجھ سے ناراض تھا پر مجھ کو لگا راضی ہے
کر کے پھر فون اسے پوچھ لیا؛ راضی ہے؟
زہے قسمت، جو کبھی آئیں اِدھر سیر کو آپ
باغباں راضی، چمن راضی، صبا راضی ہے
جس کو رہتی تھی سدا فکر مِری، دیکھو آج
وہ مِرے دل کی اداسی پہ بڑا راضی ہے
کتنا آسان سا نُسخہ ہے حصولِ حق کا
خلق راضی ہے تو سمجھو کہ خدا راضی ہے
اس کی مرضی ہے نوازے یا کہ محروم رکھے
اس کی تقسیم پہ ہر اہلِ وفا راضی ہے
کچھ تو معلوم ہو آخر تِرا معیار ہے کیا؟
مجھ سے ہر شخص یہاں تیرے سوا راضی ہے
پھر بھلا کیسے نہ پوری ہو تِرے دل کی مراد
چوم کر ہونٹ تِرے حرفِ دعا راضی ہے
فہیم الرحمٰن آذر
No comments:
Post a Comment