Showing posts with label عارف اشتیاق. Show all posts
Showing posts with label عارف اشتیاق. Show all posts

Thursday, 15 October 2020

رات بھر رات سہی جاتی ہے

 رات بھر رات سہی جاتی ہے

نیند آنکھوں سے بہی جاتی ہے

کون آئے گا؟ کوئی بھی تو نہیں

زندگی ڈھلتی چلی جاتی ہے

آسمانوں سے کی گئی فریاد

تہہ در تہہ دبی جاتی ہے

Wednesday, 19 August 2020

تو مری زندگی بنو گی تم

تو مِری زندگی بنو گی تم
مر گیا میں تو کیا رہو گی تم
نہیں عادت کوئی بھلی تم میں
مجھے ظاہر ہے کیوں گنو گی تم
وہ جو زہرہ ہے، ہے مِری دیوی
جان جل جل کے جل مرو گی تم

وہ میرے شہر میں آیا ہوا ہے

وہ میرے شہر میں آیا ہوا ہے
کڑکتی دھوپ میں سایا ہوا ہے
دل برباد کو تیرے سبب سے
نئی الفت میں الجھایا ہوا ہے
محبت نے مِرے سے تند خو کو
سر بازار کھنچوایا ہوا ہے

گلہ ہونٹوں پہ لائے جا رہا ہوں

گِلہ ہونٹوں پہ لائے جا رہا ہوں
میں تیرا غم منائے جا رہا ہوں
وہ مجھ کو بھول جائے جا رہا ہوں
میں اس کو یاد آئے جا رہا ہوں
بدن تھا آ گیا ہے لوٹ کے گھر
میں تیرے پاس پائے جا رہا ہوں

دل ٹوٹا تو کیا سے کیا نقصان ہوا

دل ٹوٹا تو کیا سے کیا نقصان ہوا
یکدم مجھ میں نازل اک شیطان ہوا
یہ فطرت ہے اور فطرت کا مطلب ہے
جس نے پہلے مارا وہ بھگوان ہوا
سچ بولا تھا میں نے تم نے جھوٹ سنا
مجھ پہ تم اور  میں تم پہ حیران ہوا

Tuesday, 18 August 2020

دیا جلائے گی تو اور میں بجھاؤں گا

دیا 🪔جلائے گی تُو اور میں بجھاؤں گا
مجھے نہ چاہ میں نفرت سے پیش آؤں گا
میں سخت دل ہی رہوں گا یہی رعایت ہے
میں بار بار تیرا دل❤ نہیں دُکھاؤں گا
عزیر تر ہیں مجھے ذات کے سیاہ ڈیرے
زرا بھی روشنی ہوگی تو مر ہی جاؤں گا

یہی ہونا تھا اور ہوا جاناں

یہی ہونا تھا اور ہوا جاناں
ہو گئے ہم جدا جدا جاناں
کوئی آساں نہ تھی تِری فرقت
میں حقیقت میں رو پڑا جاناں
تِرے اندر ہوں میں ہی میں ہر سو
مِرے اندر تُو جا بجا جاناں

ہر کسی کے لئے دعا کرنا

ہر کسی کے لیے دعا کرنا
خوب ہوتا ہے یوں شفا کرنا
اب مجھے عجلتِ رہائی نہیں
تم مجھے مار کر رِہا کرنا
زندگی کیا ہے اور کیا ہے اجل
تم سے ملنا، تمہیں جدا کرنا

Wednesday, 9 October 2019

عمر بھر کا ہوا زیاں جاناں

عمر بھر کا ہوا زیاں جاناں
ہم یہاں، اور تم وہاں جاناں
نیند آئی نہیں کئی دن سے 
خواب ہونے لگے گِراں جاناں
کون جانے تیری مِری الجھن
کون سمجھے گا یہ زباں جاناں

تیرے میرے بھی درمیاں جاناں

تیرے میرے بھی درمیاں جاناں
آ گیا موڑ نا گہاں جاناں
فاصلوں کے طویل صحرا میں
ہم نے دیکھے کئی گماں جاناں
شام ہوتے ہی ساحلِ جاں پہ
ڈوب جاتی ہیں کشتیاں جاناں

تمہاری یاد طاری ہو رہی ہے

تمہاری یاد طاری ہو رہی ہے
بڑی ہی یادگاری ہو رہی ہے
تمہیں تو لوٹ کر آنا نہیں ہے
مجھے تو انتظاری ہو رہی ہے
تِرے اندر کہاں سبزہ اُگے گا
خزاں میں کاشتکاری ہو رہی ہے

میں اب اکتا گیا ہوں فرقتوں سے

میں اب اُکتا گیا ہوں فُرقتوں سے
نکالوں کس طرح تجھ کو رگوں سے
جدائی تاک میں بیٹھی ہوئی تھی
محبت کر رہے تھے مشوروں سے
تجھے میں نے مجھے تُو نے گنوایا
مگر اب فائدہ ان تذکروں سے