دل ٹوٹا تو کیا سے کیا نقصان ہوا
یکدم مجھ میں نازل اک شیطان ہوا
یہ فطرت ہے اور فطرت کا مطلب ہے
جس نے پہلے مارا وہ بھگوان ہوا
سچ بولا تھا میں نے تم نے جھوٹ سنا
بیعت نہیں کی ہم نے اونچے ناموں کی
پر جو لکھا، سب کا سب فرمان ہوا
بھیڑ لگی تھی رنگ برنگے ناموں کی
پھر میری بے رنگی کا اعلان ہوا
عارف اشتیاق
No comments:
Post a Comment