Wednesday, 19 August 2020

دل ٹوٹا تو کیا سے کیا نقصان ہوا

دل ٹوٹا تو کیا سے کیا نقصان ہوا
یکدم مجھ میں نازل اک شیطان ہوا
یہ فطرت ہے اور فطرت کا مطلب ہے
جس نے پہلے مارا وہ بھگوان ہوا
سچ بولا تھا میں نے تم نے جھوٹ سنا
مجھ پہ تم اور  میں تم پہ حیران ہوا
بیعت نہیں کی ہم نے اونچے ناموں کی
پر جو لکھا، سب کا سب فرمان ہوا
بھیڑ لگی تھی رنگ برنگے ناموں کی
پھر میری بے رنگی کا اعلان ہوا

عارف اشتیاق

No comments:

Post a Comment