گِلہ ہونٹوں پہ لائے جا رہا ہوں
میں تیرا غم منائے جا رہا ہوں
وہ مجھ کو بھول جائے جا رہا ہوں
میں اس کو یاد آئے جا رہا ہوں
بدن تھا آ گیا ہے لوٹ کے گھر
ستم یہ ہے کہ اب تو بھی نہیں ہے
گریباں منہ چھپائے جا رہا ہوں
جسے دیکھو وہ روئے جا رہا ہے
میں تیرے خط سنائے جا رہا ہوں
عارف اشتیاق
No comments:
Post a Comment