وہ حقیقت یا گماں تھا خود سے ایسا آشنا
"ورنہ پہلے میں کہاں تھا خود سے ایسا آشنا"
دیدۂ پُر شوق سے الجھا رہا اس کا گریز
جو نہاں ہو کر عیاں تھا خود سے ایسا آشنا
بارہا جس کے تغافل پر مٹے عاشق مزاج
ڈال کر چلتا بنا ہم پر اچٹتی سی نظر
اک ہجومِ دلبراں تھا خود سے ایسا آشنا
چہرۂ گلفام کی وہ گل فشانئ سخن
رنگِ محفل ضوفِشاں تھا خود سے ایسا آشنا
جو گیا ہے چھوڑ کر اک خط مِری دہلیز پر
وہ مِرا ہی ترجماں تھا خود سے ایسا آشنا
منزلِ موجود سے آگے کا تنہا تھا سفر
کاروانِ بے اماں تھا خود سے ایسا آشنا
بے خبر تھے امتحانِ عشق کے آداب سے
دوسری جانب جہاں تھا خود سے ایسا آشنا
سلمان اطہر
No comments:
Post a Comment