یوں اچانک تِری جدائی سے
کٹ گیا ہوں بھری خدائی سے
میری بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں
اتنی گندم ملے کٹائی سے
سب عبادات خلد کی خاطر
ہم رہے ایسی پارسائی سے
یوں اچانک تِری جدائی سے
کٹ گیا ہوں بھری خدائی سے
میری بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں
اتنی گندم ملے کٹائی سے
سب عبادات خلد کی خاطر
ہم رہے ایسی پارسائی سے
زندگی ایسے گزاری جا سکے
درد ہو تو چیخ ماری جا سکے
حسن کی تصویر ہے یہ تو میاں
عشق میں رکھ کر سنواری جا سکے
چارہ گر احساس کی لو تیز کر
دل کی کچھ تو بیقراری جا سکے
اور کیا عشق میں حصول کیا
آنکھ تر کی، یہ دل ملول کیا
ایک پل بھی نہ خود پہ خرچ ہوئے
یوں تِری ذات میں حلول کیا
کامیابی اسے ملی جس نے
سجدۂ ضبط با اصول کیا
زمزمِ شوق کو عرفان دئیے جاتے ہیں
زندگی زہر ہے اور زہر پیے جاتے ہیں
کتنے مجبور ہیں ہم پیار میں اب تک ان کے
درد خوشیوں کے عوض یار لیے جاتے ہیں
ابرِ رحمت ہے کہ سائے ہیں شبِ فرقت کے
تیری چاہت کو جنوں خیز کیے جاتے ہیں
تم سے بچھڑتے وقت بہت ہی اداس ہے
دل کو کہاں جدائی کا منظر یہ راس ہے
اب کیا کہوں کہ چار سو وحشت کا راج ہے
یہ زندگی جو آج ہے غم کا لباس ہے
گزرے گی اب اسی کے سہارے تمام عمر
یادوں کا اک گھروندہ جو اس دل کے پاس ہے
عالم عشق و جنوں ہے
ہر گھڑی لطف و سکوں ہے
یار دیکھا ہے مسلسل
زندگی غم کا فسوں ہے
کچھ پلا دے آج ساقی
سوچ مت وقتِ زبوں ہے