Showing posts with label طاہر ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label طاہر ہاشمی. Show all posts

Friday, 9 December 2022

یوں اچانک تری جدائی سے

 یوں اچانک تِری جدائی سے

کٹ گیا ہوں بھری خدائی سے

میری بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوں

اتنی گندم ملے کٹائی سے

سب عبادات خلد کی خاطر

ہم رہے ایسی پارسائی سے

Friday, 11 November 2022

زندگی ایسے گزاری جا سکے

 زندگی ایسے گزاری جا سکے

درد ہو تو چیخ ماری جا سکے

حسن کی تصویر ہے یہ تو میاں

عشق میں رکھ کر سنواری جا سکے

چارہ گر احساس کی لو تیز کر

دل کی کچھ تو بیقراری جا سکے

Saturday, 5 November 2022

اور کیا عشق میں حصول کیا

 اور کیا عشق میں حصول کیا

آنکھ تر کی، یہ دل ملول کیا

ایک پل بھی نہ خود پہ خرچ ہوئے

یوں تِری ذات میں حلول کیا

کامیابی اسے ملی جس نے

سجدۂ ضبط با اصول کیا

Friday, 29 April 2022

زمزم شوق کو عرفان دئیے جاتے ہیں

زمزمِ شوق کو عرفان دئیے جاتے ہیں

زندگی زہر ہے اور زہر پیے جاتے ہیں

کتنے مجبور ہیں ہم پیار میں اب تک ان کے

درد خوشیوں کے عوض یار لیے جاتے ہیں

ابرِ رحمت ہے کہ سائے ہیں شبِ فرقت کے

تیری چاہت کو جنوں خیز کیے جاتے ہیں

Wednesday, 27 April 2022

تم سے بچھڑتے وقت بہت ہی اداس ہے

تم سے بچھڑتے وقت بہت ہی اداس ہے

دل کو کہاں جدائی کا منظر یہ راس ہے

اب کیا کہوں کہ چار سو وحشت کا راج ہے

یہ زندگی جو آج ہے غم کا لباس ہے

گزرے گی اب اسی کے سہارے تمام عمر

یادوں کا اک گھروندہ جو اس دل کے پاس ہے

Friday, 22 April 2022

عالم عشق و جنوں ہے

عالم عشق و جنوں ہے

ہر گھڑی لطف و سکوں ہے

یار دیکھا ہے مسلسل

زندگی غم کا فسوں ہے

کچھ پلا دے آج ساقی

سوچ مت وقتِ زبوں ہے