عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حاصل ہے دل کو الفتِ پیغمبرِﷺ خدا
یہ بھی ہے ایک رحمتِ پیغمبرِﷺ خدا
دو طفل مُردہ کر دئیے زندہ حضورؐ نے
معجز نما ہے دعوتِ پیغمبرِﷺ خدا
ہو گی ضرور امتِ سرور مقیمِ خلد
مقبول ہے شفاعتِ پیغمبرِﷺ خدا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حاصل ہے دل کو الفتِ پیغمبرِﷺ خدا
یہ بھی ہے ایک رحمتِ پیغمبرِﷺ خدا
دو طفل مُردہ کر دئیے زندہ حضورؐ نے
معجز نما ہے دعوتِ پیغمبرِﷺ خدا
ہو گی ضرور امتِ سرور مقیمِ خلد
مقبول ہے شفاعتِ پیغمبرِﷺ خدا
چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی
تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی
شکوے تو ہیں ہزاروں مگر ان کے روبرو
مہرِ سکوت ہے مِرے لب پر لگی ہوئی
سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا
اے ہم نفس! یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی
میہماں آ کے جو وہ رشکِ گلستاں ہو گا
گھر مرا رشک، وہ روضۂ رضواں ہو گا
طالبِ زخم ہیں میرے جگر و دل دونوں
اے فلک! تُو ہی بتا کس کا وہ مہماں ہو گا
مل کے دنیا کے پری رو مجھے مٹی دیں گے
💢آج تابوت مِرا تختِ سلیماں ہو گا
لطف سے پیرِ مغاں دے پھر کوئی ساغر مجھے
مست کر دے تا خیالِ ساقیٔ کوثر مجھے
روضۂ حضرت کا شوقِ دید ہمدم کچھ نہ پوچھ
اُڑ کے میں فوراً پہنچ جاتا جو ملتے پر مجھے
بے نیازِ فرشِ محمل ہوں ، گدائے شاہ ہوں
خاکِ یثرب کا فقط درکار ہے بستر مجھے
آںکھیں کھلیں تو مائلِ پندار کیوں ہوئے
غفلت ہی ہم کو خوب تھی ہشیار کیوں ہوئے
پوچھا یہ کیا ہمارے طلبگار کیوں ہوئے
یہ کہیے آپ اتنے طرحدار کیوں ہوئے
غافل یہ شرحِ عشق کی گر پیروی نہیں
منصور جیسے زیب سرِ دار کیوں ہوئے