Showing posts with label محمد دین فوق. Show all posts
Showing posts with label محمد دین فوق. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

حاصل ہے دل کو الفت پیغمبر خدا

  عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حاصل ہے دل کو الفتِ پیغمبرِﷺ خدا

یہ بھی ہے ایک رحمتِ پیغمبرِﷺ خدا

دو طفل مُردہ کر دئیے زندہ حضورؐ نے

معجز نما ہے دعوتِ پیغمبرِﷺ خدا

ہو گی ضرور امتِ سرور مقیمِ خلد

مقبول ہے شفاعتِ پیغمبرِﷺ خدا

Sunday, 20 March 2022

چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی

 چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی

تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی

شکوے تو ہیں ہزاروں مگر ان کے روبرو

مہرِ سکوت ہے مِرے لب پر لگی ہوئی

سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا

اے ہم نفس! یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی

Tuesday, 15 March 2022

میہماں آ کے جو وہ رشکِ گلستاں ہو گا

 میہماں آ کے جو وہ رشکِ گلستاں ہو گا

گھر مرا رشک، وہ روضۂ رضواں ہو گا

طالبِ زخم ہیں میرے جگر و دل دونوں

اے فلک! تُو ہی بتا کس کا وہ مہماں ہو گا

مل کے دنیا کے پری رو مجھے مٹی دیں گے

💢آج تابوت مِرا تختِ سلیماں ہو گا

Monday, 14 March 2022

لطف سے پیرِ مغاں دے پھر کوئی ساغر مجھے

 لطف سے پیرِ مغاں دے پھر کوئی ساغر مجھے

مست کر دے تا خیالِ ساقیٔ کوثر مجھے

روضۂ حضرت کا شوقِ دید ہمدم کچھ نہ پوچھ

اُڑ کے میں فوراً پہنچ جاتا جو ملتے پر مجھے

بے نیازِ فرشِ محمل ہوں ، گدائے شاہ ہوں

خاکِ یثرب کا فقط درکار ہے بستر مجھے

Saturday, 12 March 2022

آںکھیں کھلیں تو مائل پندار کیوں ہوئے

 آںکھیں کھلیں تو مائلِ پندار کیوں ہوئے

غفلت ہی ہم کو خوب تھی ہشیار کیوں ہوئے

پوچھا یہ کیا ہمارے طلبگار کیوں ہوئے

یہ کہیے آپ اتنے طرحدار کیوں ہوئے

غافل یہ شرحِ عشق کی گر پیروی نہیں

منصور جیسے زیب سرِ دار کیوں ہوئے