میہماں آ کے جو وہ رشکِ گلستاں ہو گا
گھر مرا رشک، وہ روضۂ رضواں ہو گا
طالبِ زخم ہیں میرے جگر و دل دونوں
اے فلک! تُو ہی بتا کس کا وہ مہماں ہو گا
مل کے دنیا کے پری رو مجھے مٹی دیں گے
💢آج تابوت مِرا تختِ سلیماں ہو گا
ان بُتوں سے جو کرے گا تو محبت اے فوق
پھر نہ تُو ہو گا، نہ دیں ہو گا، نہ ایماں ہو گا
محمد دین فوق
منشی محمد الدین فوق
No comments:
Post a Comment