کل نئی صبح جلوہ گر ہو گی
سال کا آج آخری دن ہے
کل نئی صبح جلوہ گر ہو گی
کھل اٹھیں گے محبتوں کے کنول
زندگی کتنی معتبر ہو گی
جگمگائیں گے چاہتوں کے چراغ
رنج کی عمر مختصر ہو گی
جس کی تعبیر ہی محبت ہے
ایسے خوابوں کی اب سحر ہو گی
بزم یاراں سجائی جائے گی
روشنی آج رات بھر ہو گی
ٹوٹ جائے گا غم کا سناٹا
گونج خوشیوں کی اس قدر ہو گی
جھلملاتے ہوئے ستاروں کی
اک ملاقات بام پر ہو گی
سال کا آج آخری دن ہے
کل نئی صبح جلوہ گر ہو گی
فرخ اظہار
No comments:
Post a Comment