Showing posts with label افتخارالحق سماج. Show all posts
Showing posts with label افتخارالحق سماج. Show all posts

Wednesday, 17 September 2025

دیوار دل سے لپٹی ہوئی یاد اور ہے

 دیوار دل سے لپٹی ہوئی یاد اور ہے

در سے جڑے فسانوں کی تعداد اور ہے

بے خوابیوں کو غور سے دیکھا تو یہ کھلا

خوابوں میں ایک رنگ تِرے بعد اور ہے

چاہوں تو مصلحت کو فریضہ قرار دوں

پر کیا کروں کہ سنتِ اجداد اور ہے

Tuesday, 1 July 2025

عجب آرام ہے جس نے تھکن سے چور کر ڈالا

 عجب آرام ہے جس نے تھکن سے چور کر ڈالا

سفر کی تشنگی سے جسم کو معمور کر ڈالا

اسی نے لا مکاں کی تیرگی کو ارتقا بخشا

مکاں کو ایک دن جس نے اچانک نور کر ڈالا

تخیل کو نظر آنے لگے تھے چاک لفظوں کے

شکستہ پیرہن سالم بدن سے دور کر ڈالا

Thursday, 6 February 2025

کہسار ہنر مجھ سے ابھی سر نہ ہوا تھا

 کہسار ہنر مجھ سے ابھی سر نہ ہوا تھا

میں چاک گریباں کا رفو گر نہ ہوا تھا

دیوار کی تحریر نے کوشش تو بہت کی

آموختہ اکثر مجھے ازبر نہ ہوا تھا

دنیا کے لیے مجھ میں کشش کس لیے ہوتی

گردش میں رہا میں کبھی محور نہ ہوا تھا

Tuesday, 27 July 2021

اک طائر خضر کہیں رستہ بدل گیا

اک طائر خضر کہیں رستہ بدل گیا

صحرائے فکر تیرا نصیبہ بدل گیا

ملنے لگی عجیب سی تعبیر بھیک میں

لگتا ہے خواب کا کوئی کاسہ بدل گیا

اظہار کرتے دل کی خموشی ذرا بتا

بدلا ہے غم کہ غم کا مداوا بدل گیا؟