دیوار دل سے لپٹی ہوئی یاد اور ہے
در سے جڑے فسانوں کی تعداد اور ہے
بے خوابیوں کو غور سے دیکھا تو یہ کھلا
خوابوں میں ایک رنگ تِرے بعد اور ہے
چاہوں تو مصلحت کو فریضہ قرار دوں
پر کیا کروں کہ سنتِ اجداد اور ہے
دیوار دل سے لپٹی ہوئی یاد اور ہے
در سے جڑے فسانوں کی تعداد اور ہے
بے خوابیوں کو غور سے دیکھا تو یہ کھلا
خوابوں میں ایک رنگ تِرے بعد اور ہے
چاہوں تو مصلحت کو فریضہ قرار دوں
پر کیا کروں کہ سنتِ اجداد اور ہے
عجب آرام ہے جس نے تھکن سے چور کر ڈالا
سفر کی تشنگی سے جسم کو معمور کر ڈالا
اسی نے لا مکاں کی تیرگی کو ارتقا بخشا
مکاں کو ایک دن جس نے اچانک نور کر ڈالا
تخیل کو نظر آنے لگے تھے چاک لفظوں کے
شکستہ پیرہن سالم بدن سے دور کر ڈالا
کہسار ہنر مجھ سے ابھی سر نہ ہوا تھا
میں چاک گریباں کا رفو گر نہ ہوا تھا
دیوار کی تحریر نے کوشش تو بہت کی
آموختہ اکثر مجھے ازبر نہ ہوا تھا
دنیا کے لیے مجھ میں کشش کس لیے ہوتی
گردش میں رہا میں کبھی محور نہ ہوا تھا
اک طائر خضر کہیں رستہ بدل گیا
صحرائے فکر تیرا نصیبہ بدل گیا
ملنے لگی عجیب سی تعبیر بھیک میں
لگتا ہے خواب کا کوئی کاسہ بدل گیا
اظہار کرتے دل کی خموشی ذرا بتا
بدلا ہے غم کہ غم کا مداوا بدل گیا؟