Showing posts with label مونا شہاب. Show all posts
Showing posts with label مونا شہاب. Show all posts

Saturday, 10 February 2024

آرزو تھی تو اضطراب بھی تھا

 آرزو تھی تو اضطراب بھی تھا

نیند گہری تھی اور خواب بھی تھا

اک بگُولا تھا ریت کا پیچھے

دشت میں سامنے سراب بھی تھا

میری قسمت کے سرد ہاتھوں میں

میرے حصے کا کچھ عذاب بھی تھا

Thursday, 30 November 2023

ترک الفت تو اک بہانہ تھا

 ترکِ اُلفت تو اک بہانہ تھا 

وہ گیا، خیر اس کو جانا تھا

ہم بھی رستے میں تھک گئے تھے بہت

اُس کو بھی ساتھ کب نبھانا تھا

رُخ پہ تازہ گُلاب کیا کِھلتے

زرد پتوں کا وہ زمانہ تھا

Wednesday, 21 April 2021

کسی نے سچ کہا ہے کہ رشتے مر نہیں سکتے

میرے دل کو یقیں تھا


کسی نے سچ کہا ہے

کہ رشتے مر نہیں سکتے

ہمارے درمیاں جب رابطے نا معتبر ٹھہریں

تو رشتے کام آتے ہیں

یہ ٹوٹے رابطوں کو جوڑ دیتے ہیں

Friday, 16 April 2021

جب تک مری اس سے یہ شناسائی نہیں تھی

 جب تک مِری اس سے یہ شناسائی نہیں تھی

اس طرح سے گھر گھر مِری رسوائی نہیں تھی

پہلے بھی بہت دھوپ پڑی تھی مِرے آنگن

اس دل کی کلی یوں کبھی مُرجھائی نہیں تھی

سچ مچ کوئی آیا تھا دریچے پہ گئی شب

مجھ کو یہ یقیں ہے کہ وہ پُروائی نہیں تھی