آرزو تھی تو اضطراب بھی تھا
نیند گہری تھی اور خواب بھی تھا
اک بگُولا تھا ریت کا پیچھے
دشت میں سامنے سراب بھی تھا
میری قسمت کے سرد ہاتھوں میں
میرے حصے کا کچھ عذاب بھی تھا
آرزو تھی تو اضطراب بھی تھا
نیند گہری تھی اور خواب بھی تھا
اک بگُولا تھا ریت کا پیچھے
دشت میں سامنے سراب بھی تھا
میری قسمت کے سرد ہاتھوں میں
میرے حصے کا کچھ عذاب بھی تھا
ترکِ اُلفت تو اک بہانہ تھا
وہ گیا، خیر اس کو جانا تھا
ہم بھی رستے میں تھک گئے تھے بہت
اُس کو بھی ساتھ کب نبھانا تھا
رُخ پہ تازہ گُلاب کیا کِھلتے
زرد پتوں کا وہ زمانہ تھا
میرے دل کو یقیں تھا
کسی نے سچ کہا ہے
کہ رشتے مر نہیں سکتے
ہمارے درمیاں جب رابطے نا معتبر ٹھہریں
تو رشتے کام آتے ہیں
یہ ٹوٹے رابطوں کو جوڑ دیتے ہیں
جب تک مِری اس سے یہ شناسائی نہیں تھی
اس طرح سے گھر گھر مِری رسوائی نہیں تھی
پہلے بھی بہت دھوپ پڑی تھی مِرے آنگن
اس دل کی کلی یوں کبھی مُرجھائی نہیں تھی
سچ مچ کوئی آیا تھا دریچے پہ گئی شب
مجھ کو یہ یقیں ہے کہ وہ پُروائی نہیں تھی