جب تک مِری اس سے یہ شناسائی نہیں تھی
اس طرح سے گھر گھر مِری رسوائی نہیں تھی
پہلے بھی بہت دھوپ پڑی تھی مِرے آنگن
اس دل کی کلی یوں کبھی مُرجھائی نہیں تھی
سچ مچ کوئی آیا تھا دریچے پہ گئی شب
مجھ کو یہ یقیں ہے کہ وہ پُروائی نہیں تھی
برسوں میں ملا پھر بھی وہ اتنا ہی حسیں تھا
چہرے پہ مگر پہلی سی رعنائی نہیں تھی
چھوڑا تھا اسے میں نے بہت سوچ سمجھ کر
لوگو وہ مِری جیت تھی، پسپائی نہیں تھی
مجبور ہوئی ترکِ تعلق پہ میں، ورنہ
اس درجہ تو فطرت مِری ہرجائی نہیں تھی
تُم اپنے مسائل پہ زرا بات تو کرتے
اٹھ کے چلے جانا کوئی دانائی نہیں تھی
ہجرت کا سبب لو میں تمہیں آج بتاؤں
اس شہر میں میری کوئی سُنوائی نہیں تھی
مونا شہاب
No comments:
Post a Comment