ہر گھڑی کا حساب بس کیجے
یہ گناہ و ثواب بس کیجے
آپ لے جائیے سبھی خوشیاں
یہ حساب و کتاب بس کیجے
ہم اطاعت گزار لوگوں سے
آ چکا انقلاب، بس کیجے
سیدھے سیدھے سوال پر آئیں
یہ لبوں کے گلاب بس کیجے
اس لیے معذرت نہیں کی ہے
بندہ پرور، جناب، بس کیجے
آپ سے کس نے کہہ دیا ہے حسن
ڈھل رہا ہے شباب، بس کیجے
حسن اعزاز
No comments:
Post a Comment