کچھ نہیں
اس نے پھر سورج لکھا
اور شام سے سجدہ لیا
روشنی انڈیلتا دستِ چراغ
بے بسی کی گود میں الٹ گیا بھلا ہوا
ابھی ابھی لکھا ہوا کاغذ کوئی
لہو لہو سیاہیوں سے سرخ رو تھا
جل گیا سیاہ رو نگاہ میں تو سرخرو تھا المیہ
لکھا تھا سادہ نثر میں
آنکھوں پر ایمان لے آؤ
ان کے پاس زبان نہیں
زبان پر آگ رکھ دو
اس کے پاس دل نہیں
دل کو چاہے دھول میں ملا دو
اس کے پاس تمہارے سوا کچھ نہیں
سو میں نے کچھ نہیں لیا اور سانس میں لپٹ کر
کچھ نہیں سے اس کے پائیں باغ کا پتا لیا
بے بسی کی گود میں چراغِ شب کی راکھ بھری
اور
شام کے سجدے کے آگے جا دھری
اور کچھ نہیں کہا اسے
کہہ دے مجھے، نہ دے مجھے
اے داستانِ دلبری
یہی ہے میری حاضری
نسرین انجم بھٹی
No comments:
Post a Comment