Showing posts with label ذیشان حیدر. Show all posts
Showing posts with label ذیشان حیدر. Show all posts

Wednesday, 29 June 2022

محبت تب بھی ممکن تھی

 محبت تب بھی ممکن تھی

کہ جب سانسوں کی گٹھڑی کُھلنے والی تھی

مِرے سینے میں دھڑکن رک رہی تھی

جب میں مر رہا تھا

میں محبت کر رہا تھا

تمہاری انگلیاں میری ہتھیلی پر دعائیں لکھ رہی تھیں 

Monday, 4 April 2022

اک فرشتہ کہیں موت کا گیت گانے لگا

 موت کا گیت


خدا اپنے گھر میں بہت خوش تھا

مہمان آئے ہیں

مہمان سامان میں اپنی اپنی 

دعاؤں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے منتظر تھے

کہ کب یہ خدا کے مقرب فرشتے 

Thursday, 31 March 2022

شہزادی کی خواب سرا میں سونے کا اک پنجرہ

 پنجرہ ہے


اک شہزادی کی خواب سرا میں 

سونے کا اک پنجرہ ہے

اک بے سُر بے رنگ پنچھی تها

جو گیتوں سے آباد ہوا

جو شہزادی کے رنگوں سے ایجاد ہوا

Saturday, 26 February 2022

دھوپ کیا ہے یہ کس رنگ کی

 کارنس پر پڑا ہوا برتن


دھوپ کیا ہے

یہ کس رنگ کی

اور کیسی ہوا کرتی ہے

میں نہیں جانتا

کیوں کہ میں تو، زمانے ہوئے

Friday, 21 January 2022

ہر محبت کی آخری نظمیں

 ہر محبت کی آخری نظمیں

اپنے شاعر پہ بوجھ ہوتی ہیں

اتنی خالی کہ جیسے اس کا دل

ایسی بوجھل کہ جیسے اس کی روح

کچھ پرویا نہ جا سکے ان میں

دکھ سمویا نہ جا سکے ان میں

Tuesday, 21 December 2021

کارنس پر پڑا ہوا برتن جانتا

 کارنس پر پڑا ہوا برتن


دھوپ کیا ہے

یہ کس رنگ کی

اور کیسی ہوا کرتی ہے

میں نہیں جانتا

کیونکہ میں تو، زمانے ہوئے

Saturday, 31 July 2021

یہ دن اس طرح کٹ گیا ہے کہ جیسے نسیں کٹ گئی

 گزرے دن کا نوحہ


یہ دن اس طرح کٹ گیا ہے کہ جیسے نسیں کٹ گئی ہوں

رگیں اینٹھتی ہیں

کشیدیں تو کیسے لہو کو کشیدیں؟

کہاں سے کشیدیں؟

بھلا کیسے قاشوں کٹے اس اذیت بھرے دن کو واپس بلائیں

تجھے اپنے ہونے کا نوحہ سنائیں

Saturday, 3 July 2021

ہم زرد ہوئے اس موسم میں جسے سبز دعائیں آتی تھیں

 ہم زرد ہوئے

اس موسم میں

جسے سبز دعائیں آتی تھیں

ہم خاک ہوئے ان ہونٹوں پر 

جو بوسہ دے کر پھول کھِلا سکتے تھے 

شاخ کے ماتھے پر 

Tuesday, 29 June 2021

لاک ڈاون میں جنم دن

 لاک ڈاون میں جنم دن


تمہارے لیے پھول چنتے ہوئے 

نظم لکھتے ہوئے یاد آیا

کہ تم دور ہو میری آنکھوں سے 

اور میرے ہونٹوں سے اور میری بانہوں سے

لیکن مِرے روز و شب کی بساطِ سفید و سیہ پر 

Monday, 26 April 2021

دیکھ سونا نہیں آج کی رات کا آخری خواب ہے

 دیکھ سونا نہیں

آج کی رات کا آخری خواب ہے

دیکھ لیں، جاگ لیں

اس نے پھر دوسری بار ہونا نہیں

دیکھ سونا نہیں

دیکھ رونا نہیں

Sunday, 18 April 2021

رات بهرتی چلی جاتی ہے فسوں سینے میں

 رات بهرتی چلی جاتی ہے فسوں سینے میں

کیا خبر میں بهی رہوں یا نہ رہوں سینے میں

دیکھ لے کیسے توازن سے لیے پھرتا ہوں

سر کی گھٹڑی میں خرد اور جنوں سینے میں

ریت ایسی ہے مِرے پاؤں دھنسے جاتے ہیں

تُو بتا کیسے چلوں، کیسے چلوں سینے میں

Wednesday, 24 February 2021

یہ دن اس طرح کٹ گیا ہے کہ جیسے نسیں کٹ گئی ہوں

 یہ دن اِس طرح کٹ گیا ہے کہ جیسے نسیں کٹ گئی ہوں

رگیں اینٹھتی ہیں

کشیدیں تو کیسے لہو کو کشیدیں

کہاں سے کشیدیں

بھلا کیسے قاشوں کٹے اس اذیت بھرے دن کو واپس بلائیں

تجھے یہ بتائیں

Saturday, 21 November 2020

پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے

پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے

وہ سب جانتا ہے

اسے علم ہے کون سے راستے پر اڑے گا تو 

انتم سرے پر اسے اپنے دن بھر کا چوگا ملے گا

کہاں کون سی رہگزر اس کو محبوب چڑیا کی دہلیز تحفہ کرے گی

کہاں کون سی شاخ پر بیٹھ کر