محبت تب بھی ممکن تھی
کہ جب سانسوں کی گٹھڑی کُھلنے والی تھی
مِرے سینے میں دھڑکن رک رہی تھی
جب میں مر رہا تھا
میں محبت کر رہا تھا
تمہاری انگلیاں میری ہتھیلی پر دعائیں لکھ رہی تھیں
محبت تب بھی ممکن تھی
کہ جب سانسوں کی گٹھڑی کُھلنے والی تھی
مِرے سینے میں دھڑکن رک رہی تھی
جب میں مر رہا تھا
میں محبت کر رہا تھا
تمہاری انگلیاں میری ہتھیلی پر دعائیں لکھ رہی تھیں
موت کا گیت
خدا اپنے گھر میں بہت خوش تھا
مہمان آئے ہیں
مہمان سامان میں اپنی اپنی
دعاؤں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے منتظر تھے
کہ کب یہ خدا کے مقرب فرشتے
پنجرہ ہے
اک شہزادی کی خواب سرا میں
سونے کا اک پنجرہ ہے
اک بے سُر بے رنگ پنچھی تها
جو گیتوں سے آباد ہوا
جو شہزادی کے رنگوں سے ایجاد ہوا
کارنس پر پڑا ہوا برتن
دھوپ کیا ہے
یہ کس رنگ کی
اور کیسی ہوا کرتی ہے
میں نہیں جانتا
کیوں کہ میں تو، زمانے ہوئے
ہر محبت کی آخری نظمیں
اپنے شاعر پہ بوجھ ہوتی ہیں
اتنی خالی کہ جیسے اس کا دل
ایسی بوجھل کہ جیسے اس کی روح
کچھ پرویا نہ جا سکے ان میں
دکھ سمویا نہ جا سکے ان میں
کارنس پر پڑا ہوا برتن
دھوپ کیا ہے
یہ کس رنگ کی
اور کیسی ہوا کرتی ہے
میں نہیں جانتا
کیونکہ میں تو، زمانے ہوئے
گزرے دن کا نوحہ
یہ دن اس طرح کٹ گیا ہے کہ جیسے نسیں کٹ گئی ہوں
رگیں اینٹھتی ہیں
کشیدیں تو کیسے لہو کو کشیدیں؟
کہاں سے کشیدیں؟
بھلا کیسے قاشوں کٹے اس اذیت بھرے دن کو واپس بلائیں
تجھے اپنے ہونے کا نوحہ سنائیں
ہم زرد ہوئے
اس موسم میں
جسے سبز دعائیں آتی تھیں
ہم خاک ہوئے ان ہونٹوں پر
جو بوسہ دے کر پھول کھِلا سکتے تھے
شاخ کے ماتھے پر
لاک ڈاون میں جنم دن
تمہارے لیے پھول چنتے ہوئے
نظم لکھتے ہوئے یاد آیا
کہ تم دور ہو میری آنکھوں سے
اور میرے ہونٹوں سے اور میری بانہوں سے
لیکن مِرے روز و شب کی بساطِ سفید و سیہ پر
دیکھ سونا نہیں
آج کی رات کا آخری خواب ہے
دیکھ لیں، جاگ لیں
اس نے پھر دوسری بار ہونا نہیں
دیکھ سونا نہیں
دیکھ رونا نہیں
رات بهرتی چلی جاتی ہے فسوں سینے میں
کیا خبر میں بهی رہوں یا نہ رہوں سینے میں
دیکھ لے کیسے توازن سے لیے پھرتا ہوں
سر کی گھٹڑی میں خرد اور جنوں سینے میں
ریت ایسی ہے مِرے پاؤں دھنسے جاتے ہیں
تُو بتا کیسے چلوں، کیسے چلوں سینے میں
یہ دن اِس طرح کٹ گیا ہے کہ جیسے نسیں کٹ گئی ہوں
رگیں اینٹھتی ہیں
کشیدیں تو کیسے لہو کو کشیدیں
کہاں سے کشیدیں
بھلا کیسے قاشوں کٹے اس اذیت بھرے دن کو واپس بلائیں
تجھے یہ بتائیں
پرندے کو سب راستوں کا پتا ہے
وہ سب جانتا ہے
اسے علم ہے کون سے راستے پر اڑے گا تو
انتم سرے پر اسے اپنے دن بھر کا چوگا ملے گا
کہاں کون سی رہگزر اس کو محبوب چڑیا کی دہلیز تحفہ کرے گی
کہاں کون سی شاخ پر بیٹھ کر