ہم زرد ہوئے
اس موسم میں
جسے سبز دعائیں آتی تھیں
ہم خاک ہوئے ان ہونٹوں پر
جو بوسہ دے کر پھول کھِلا سکتے تھے
شاخ کے ماتھے پر
ہم نقش ہوئے اس دھڑکن پر
جسے علم نہیں تھا، ہم بھی ہیں
ہم پنچھی اُجڑے منظر کے
ہم وحشی اپنی اندر کے
یہ کس رستے پر چل نکلے
جو خاموشی میں شور کا تھا
کسی اور کا تھا
اب ریت ہوا کی مُٹھی میں جو لے جائے
اک ٹُوٹے خواب کا سرمایہ، وہ لے جائے
یہ خواب ہے شاید
خواب نہیں
یہ کون آیا؟
ذیشان حیدر نقوی
No comments:
Post a Comment