کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے
شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے
گھڑ لیے لوگوں نے افسانے
ہم نے تو بس آہ بھری ہے
کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا
درد سری ہے، دربدری ہے
کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
مہکتے پھول سے، موجِ صبا سے ملتے ہیں
اک اور بار چلو بے وفا سے ملتے ہیں
فضا مہکتی ہے اس کے بدن کی خوشبو سے
گُلوں کے رنگ، رُخِ دلرُبا سے ملتے ہیں
چمن میں خار لپٹتے ہیں اس طرح مجھ سے
کہ جیسے لوگ کسی آشنا سے ملتے ہیں