Showing posts with label سعید ناز. Show all posts
Showing posts with label سعید ناز. Show all posts

Wednesday, 20 May 2026

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

Tuesday, 5 May 2026

گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

 گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے

گھڑ لیے لوگوں نے افسانے

ہم نے تو بس آہ بھری ہے

کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا

درد سری ہے، دربدری ہے

Monday, 4 May 2026

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

Thursday, 25 March 2021

مہکتے پھول سے موج صبا سے ملتے ہیں

 مہکتے پھول سے، موجِ صبا سے ملتے ہیں

اک اور بار چلو بے وفا سے ملتے ہیں

فضا مہکتی ہے اس کے بدن کی خوشبو سے

گُلوں کے رنگ، رُخِ دلرُبا سے ملتے ہیں

چمن میں خار لپٹتے ہیں اس طرح مجھ سے

کہ جیسے لوگ کسی آشنا سے ملتے ہیں