Tuesday, 5 May 2026

گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

 گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے

گھڑ لیے لوگوں نے افسانے

ہم نے تو بس آہ بھری ہے

کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا

درد سری ہے، دربدری ہے

اہلِ جنوں کے سر چڑھ بولے

حُسن اک ایسی جادوگری ہے

ناز! محبت سب کرتے ہیں

اس الزام سے کون بری ہے


سعید ناز 

No comments:

Post a Comment