Tuesday, 5 May 2026

قید تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

 قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں

شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے

🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷

ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید

غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں

جب مجھے اہلِ خرد طعنِ جنوں دیتے ہیں

تیری تصویر سے پردے کو اٹھا دیتا ہوں

ہوں ازل سے ہی میں تقدیر پہ راضی بہ رضا

آگ لگتی ہے جو گھر میں تو ہوا دیتا ہوں

مجھ میں، واعظ میں ہمیشہ ہی ٹھنی رہتی ہے

پند کرتا ہے وہ، میں 🍷 جام بڑھا دیتا ہوں

آج تک مجھ پہ بھی یہ راز ضیا کھل نہ سکا

کون سنتا ہے مجھے؟ کس کو صدا دیتا ہوں؟


طاہر ضیا

No comments:

Post a Comment