سیاست
وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال
وہ چمک اٹھا خوشی سے چہرۂ حُزن و ملال
اک طرف طبقات میں پیدا ہے بیداری کی موج
دیدنی ہے دوسری جانب سیاست کا کمال
اک طرف جمہور کی طاقت کے چرچے ہیں یہاں
دوسری جانب حکومت کر رہی ہے قیل و قال
ہے سیاست کا تسلط ذہنِ انسانی پر آج
جانبِ مذہب نہیں مبذول انساں کا خیال
ہے سیاست کی روش پر آج انساں گامزن
آج ضمنی ہو گیا ہے دوسرا ہر اک سوال
اک طرف سمٹا ہوا ہے راہبِ گوشہ نشیں
اک طرف مرعوب کُن اہلِ سیاست کا جلال
آج رخصت ہو رہی ہے ذہن سے روحانیت
مادیت کے اشاروں پر ہے نظمِ ماہ و سال
اک طرف سرمایہ داروں نے بنایا ہے محاذ
دوسری جانب ہے مزدوروں کی روٹی کا سوال
نظم عالم کا بہ اندازِ دِگر ہے آج کل
جذبۂ انسانیت پھر جوش پر ہے آج کل
محمد صادق ضیا
No comments:
Post a Comment