Showing posts with label ناظم بریلوی. Show all posts
Showing posts with label ناظم بریلوی. Show all posts

Sunday, 11 September 2022

سنا دی کس نے روداد غم دل کوہساروں کو

 سنا دی کس نے رودادِ غم دل کوہساروں کو

میں اکثر سوچتا ہوں دیکھ کر ان آبشاروں کو

گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر

نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو

چلے آؤ نہ روکے گا غبارِ راہ اب تم کو

کہ پُرنم کر دیا اشکوں سے میں نے رہگزاروں کو

Saturday, 27 August 2022

کیا ہے میرے دل کی حالت واقعی کیسے کہوں

 کیا ہے میرے دل کی حالت واقعی کیسے کہوں

کیوں ہے میری آنکھ میں اتنی نمی کیسے کہوں

میری اک اک سانس پہ حق ہے مِرے اللہ کا

میں بھلا اس زندگی کو آپ کی کیسے کہوں

کون ہے میرا مخالف کس نے کی ہے مخبری

جانتا ہوں میں بتاؤں گا ابھی کیسے کہوں

Friday, 26 August 2022

آنکھ میں گر نمی نہیں ہوتی

 آنکھ میں گر نمی نہیں ہوتی

درد میں بھی کمی نہیں ہوتی

کچھ اندھیرے کا پاس بھی رکھو

ہر جگہ روشنی نہیں ہوتی

وہ بھی چپ چپ ادھر بھی خاموشی

اس طرح عاشقی نہیں ہوتی

Monday, 10 May 2021

اشک چشم بت بے جاں سے نکل سکتا ہے

 اشک چشمِ بتِ بے جاں سے نکل سکتا ہے

آہِ پُر سوز سے پتھر بھی پگھل سکتا ہے

اپنے اندازِ تکلم کو بدل دے، ورنہ

میرا لہجہ بھی تِرے ساتھ بدل سکتا ہے

لوگ کہتے تھے کہ پھلتا نہیں نفرت کا شجر

ہم کو لگتا ہے کہ اس دور میں پھل سکتا ہے