سنا دی کس نے رودادِ غم دل کوہساروں کو
میں اکثر سوچتا ہوں دیکھ کر ان آبشاروں کو
گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر
نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو
چلے آؤ نہ روکے گا غبارِ راہ اب تم کو
کہ پُرنم کر دیا اشکوں سے میں نے رہگزاروں کو
سنا دی کس نے رودادِ غم دل کوہساروں کو
میں اکثر سوچتا ہوں دیکھ کر ان آبشاروں کو
گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر
نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو
چلے آؤ نہ روکے گا غبارِ راہ اب تم کو
کہ پُرنم کر دیا اشکوں سے میں نے رہگزاروں کو
کیا ہے میرے دل کی حالت واقعی کیسے کہوں
کیوں ہے میری آنکھ میں اتنی نمی کیسے کہوں
میری اک اک سانس پہ حق ہے مِرے اللہ کا
میں بھلا اس زندگی کو آپ کی کیسے کہوں
کون ہے میرا مخالف کس نے کی ہے مخبری
جانتا ہوں میں بتاؤں گا ابھی کیسے کہوں
آنکھ میں گر نمی نہیں ہوتی
درد میں بھی کمی نہیں ہوتی
کچھ اندھیرے کا پاس بھی رکھو
ہر جگہ روشنی نہیں ہوتی
وہ بھی چپ چپ ادھر بھی خاموشی
اس طرح عاشقی نہیں ہوتی
اشک چشمِ بتِ بے جاں سے نکل سکتا ہے
آہِ پُر سوز سے پتھر بھی پگھل سکتا ہے
اپنے اندازِ تکلم کو بدل دے، ورنہ
میرا لہجہ بھی تِرے ساتھ بدل سکتا ہے
لوگ کہتے تھے کہ پھلتا نہیں نفرت کا شجر
ہم کو لگتا ہے کہ اس دور میں پھل سکتا ہے